شمالی وزیرستان: خاصہ دار فورس کا وردی میں جرگہ،نیکات نظام کی بحالی ،پینشن کا مطالبہ

شمالی وزیرستان کی خاصہ دار فورس نے جرگہ کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مستقبل کو فاٹا انضمام ہونے یا نہ ہونے سے نہ جوڑا جائے بلکہ انگریز دور سے خاصہ دار فورس کے نیکات نظام کو بحال اور پنشن جاری کی جائے۔ بنوں ٹاؤن شپ میں منعقدہ خاصہ دار فورس کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبیدار میجر سید جلال ،صوبیدار داؤد ،صوبیدار شیر ولی ،اور صوبیدار نواب و دیگر نے کہا کہ انگریز دور سے ہمیں شمالی وزیرستان کی سرزمین کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کی ہمیں نیکات نظام کے تحت ہر گھرانے کو خاصہ دار فورس میں ملازمت دی ہے۔ اس وقت کل تقریباً چار ہزار خاصہ دار اہلکار ،درجنوں صوبیدار اور سینکڑوں کی تعدا میں نائب صوبیدار، حوالدار و نائیک ہیں جس کی تنخواہ پورے گھرانے پر تقسیم کی جاتی ہے جوکہ صوبیدار کی ذمہ داری ہو تی ہے لیکن اب شمالی وزیرستان کی انتظامیہ نے ہماری پچھلے دو ماہ کی تنخواہیں بند کرکے کمپیوٹرائز نظام کے تحت ملازم کو ہی تنخواہ دینے کا نظام متعارف کرا رہی ہے جس کی وجہ سے نیکات نظام کے تحت تنخواہ لینے والے خاندان کے دیگر حصہ دار افراد محروم رہ جائیں گے جو کہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں کیونکہ اگر تنخواہ کسی ایک فرد کو دی جا تی ہے تو گھروں میں تنازعات پیدا ہوں گے۔ اسی طرح ہماری پنشن بھی بند کی گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اعتماد میں لئے بغیر حکومت نئی پالیسی متعارف کرتے ہوئے بھرتیاں کر رہی ہیں جس کے ہم مخالف نہیں لیکن حکومت ہماری پنشن بھی جاری رکھے۔ اُنہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ فاٹا انضمام یا الگ صوبے بنانے کیلئے فاٹا کے تمام ایجنسیوں کے دورے تو کئے جا رہے ہیں مگر کہیں پر بھی خاصہ داروں کے مستقبل کے بارے میں بات نہیں کی گئی لہذا فاٹا انضمام ہو یا نہ ہو ہماری خاصہ دار فورس میں نیکات کوبحال ر کھے۔ ہمارے مستقبل کو فاٹا کے ایشو سے نہ جوڑا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ چاہتی ہے کہ ہمارا نظام کمپیوٹرائزڈ ہو جائے تو اس سے قبل ہمیں پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح ایک شہری کی طرح حق دیں کیونکہ1941 انگریز کے دور سے مذکورہ ملازمتیں اور تنخوا ہ ہمیں عمر بھر کیلئے کمیشن کے طور پر دی ہے ہمیں کوئی سروس بک جاری نہیں دی جاتی نہ ہی پنشن دی جاتی ہے تو لہذا نئے نظام میں ہمیں بھی ایک شہری کا حق دیتے ہوئے سروس بک جاری کریں یا پھر نیکات کو بحال کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں جب سے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے تب سے ہی ہم نے اپنی سرحدات کی حفاظت کی ۔اس دوران ہمارے بہت سارے جوان شہید ہوئے اور اب بھی آپریشن ضرب عضب سے لیکر ابھی تک پاک فوج کے شانہ بشانہ ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں ۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ خاصہ دار فورس کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے نیکات نظام بحال رکھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں