“اچھا بنوں، برا بنوں” تحریر: پشتون خان

تحریر: پشتون خان

ہمارے ہاں عام طور پر یہ شکایت عام ہے کہ بنوں رہنے کے لیے آئیڈیل جگہ نہیں، یہاں کے لوگوں کی سوچ اچھی نہیں،یہاں جہالت ہے ،بنوچی معاشرہ بہت گرا ہوا ہے وغیرہ وغیرہ. سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ معاشرہ ایک اجتماعی سوچ سے تشکیل پاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کے معیار کو وہاں بسنے والے افراد کی انفرادی سوچ سے ماپا جا سکتا ہے۔ معاشرے میں شامل ہر فرد اپنے معاشرتی اقدار پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ بات بے جا نہیں کہ ماحول اثر چھوڑتا ہے ۔ مگر ماحول کو ترتیب دینا ، اسے اپنے مطابق ڈھالنا افراد ہی کا کام ہے۔ عوامی قوت ہمیشہ بھاری ہوتی ہے۔ اور جو چیز کسی معاشرے کے افراد اپنے لیے ایک بار پسند کر لیں پھر وہ چیز بھلے ہی بری ہو اسے آسانی سے ہٹایا نہیں جا سکتا ۔
سوچ ، محض سوچ نہیں ہوتی اسکا ہماری زندگی سے بڑا گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ ہم کیسے جیتے ہیں؟ ہم کامیابی کا معیار کیا رکھتے ہیں؟ ناکامی کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟ یہ سب ہماری سوچ پہ منحصر ہے۔
ہمیں ہماری سوچ عروج پہ بھی پہنچاتی ہے ۔ اور یہی سوچ زوال کا سبب بھی بنتی ہے۔ لیکن سوچ بذات خود یہ سب نہیں کرتی ۔ سوچ کے پہلو ہوتے ہیں ۔ مثبت پہلو اور منفی پہلو، سوچ ان دونوں پہ مشتمل ہے اور ان دونوں کو مکمل طور پر ہٹایا نہیں جا سکتا ان میں سے ایک بھی مکمل طور سے کبھی بھی ختم نہیں ہوتا چاہے کوئی کتنا ہی اخلاق والا ، دانش مند اور بھلا بن جائے وہ اپنے سوچ کے منفی پہلو کو مکمل کبھی بھی ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی برا شخص مثبت پہلو کو خود سے ہٹا سکتا ہے۔
بات صرف یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنا زیادہ جھکاؤ کس سمت کرتے ہیں؟ یہ ہم پہ انحصار کرتا ہے کہ ہم ہر کام سے پہلے سوچ کے کس پہلو کو ہمیشہ اپنے آگے رکھتے ہیں؟ کوئی بھی شخص پیدائیشی ولن نہیں ہوتا اور نہ ولن بن کر اسکے اندر سوچ کا مثبت پہلو ختم ہوتا ہے۔ یہ ذوق کی بات ہے کہ ہم کس کا انتخاب کرتے ہیں ؟ مثبت کا یا منفی کا۔
اور ہمارا یہی چناؤ ہمارے معاشرتی اقدار پہ اثر انداز ہوتا ہے
کہ ہم کس بنوں کو منتخب کرنا چاہتے ہیں اپنے لیے
“اچھا بنوں، برا بنوں”
یہی ہمارا کا مشن ہے ۔ “اچھے بنوں” کو منتخب کرنے کا شعور عوام میں بیدار کرنا اور اس بات کو غلط ثابت کرنا کہ” بنوں خود بری جگہ ہے” نہیں
بلکہ سوچ کے دو زاویے ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں