بیوٹی فیکشن منصوبہ بندر کے ہاتھ میں اُسترا والی کہاوت نہ بن جائے

تحریر: احسان اللہ خٹک

بیوٹی فیکشن منصوبے کے تحت جاری کام میں سست روی کنسٹرکشن سے ناواقف ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دینے اور ہفتوں سے پڑے گندگی کے ڈھیر وں نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات پر سوالات اُٹھا دیئے ۔بنوں کے شہری اور کچھ آس پاس کے علاقہ جات کی خوبصورتی کیلئے صوبائی حکومت ایک ارب روپے بیوٹی فیکیشن کے نام سے جاری کئے گئے ۔جس پر ضلعی انتظامیہ نے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو اعتماد میں لیا اور پہلی مرتبہ وہ تجاوزات گرادیئے جو انگریز کے جانے کے بعد لوگوں نے قائم کئے تھے۔ جس پر مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے اور بالخصوص میڈیا نے بہترین انداز سے رپورٹ کیا اور اس منصوبے کو پذیرائی دی۔ ہر طرف تجاوزات گرا دیئے گئے۔ پورا شہر نکاس کے پانی سے جھل تھل کا منظر پیش کر نے لگا لیکن ہرشہری اور تاجر برادری اس پر خاموش رہے۔ کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ جگہ جگہ گندگی کے جمع ڈھیروں سے عوام کو مشکلات درپیش ہیں۔ ہر ایک نے چُپ کا روزہ رکھ لیا تھا۔ اخباری رپورٹ کے دوران معروف قانون دان سابق صدر ڈسٹرکٹ بار بنوں عرفان پیر زادہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم وکلاء برادری کا مکمل تعاون ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ہے اور ہر فورم پر انکے اقدامات کی تائید بھی ہے لیکن کچھ ایسے اقدامات بیوٹی فیکیشن منصوبے پر اُٹھائے گئے جس سے بنوں کے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہو رہے ہیں۔
بنوں میں اتنی مشینری دستیاب نہیں جتنا یہاں پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک طرف پہلے تعمیراتی کام مکمل کیا جاتا پھر دوسرے سائیڈ پر تعمیراتی کام شروع کیا جاتا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے مشکلات ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو خوبصورتی کے ٹھیکے دئے گئے جو اپنے گھر میں کمرے کی تعمیر کی واقفیت بھی نہیں رکھتے۔ کام میں ناقص میٹریل کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ شہر اور بیرون شہر جہاں نالوں کو گہرا کیا جا نا تھا وہاں سائیڈوں کو اونچا کیا گیا جس سے عنقریب دوبارہ مسائل پیدا ہونگے۔
کمیسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے صوبائی وائس چئیر مین ایم عالم خان نے بتایا کہ بنوں کیلئے صوبائی حکومت اور ڈپٹی کمشنر محمد علی اصغر کے اقدامات کو پورے بنوں کے عوام اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہر فورم پر انکی حمایت اور تعاون میں اعلان کرتے ہیں ۔یہ بنوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ بلا تفریق اور امتیاز کے تجاوزات کے خلاف کاروائی کی گئی جبکہ میونسپل انتظامیہ میں کچھ لوگ انکی ٹیم میں ایسے موجود ہیں جو مختلف مقامات پر جان بوجھ کر تجاوزات ہٹانے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں جسکی وجہ سے یہ خوبصورتی کاکام تعطل کا شکار ہو رہا ہے اور لوگوں کے مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈی سی صاحب اس منصوبے میں لاکھ مخلص صحیح لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی ٹیم ناکارہ ثابت ہواوربہتری کی بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔پریٹی گیٹ سے لیکر چوک بازار تک اگر مبالغہ آرائی سے کام لیا جائے تو چند قدم کا فاصلہ ہے لیکن تجاویزات ہٹانے کے بعدصرف ایک طرف کی نالی بنانے پر جتنا وقت لگا ہے اس سے لوگوں میں تشویش کی لہر اُٹھی ہے۔
اس مضمون کے ٹائٹل میں بندر سے کہیں بھی کسی شخص یا ادارے کی طرف اشارہ کرنا مقصد نہیں تھا بلکہ اناڑی پن کے خدشے کی نشاندہی کرنا مقصود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں