نقیب محسود ! تو گولی کا حقدار تھا!!! تحریر: عبدالباری مندوخیل

تحریر: عبدالباری مندوخیل

جنوبی وزیرستان میں راہ نجات کے بعد غربت کے ہاتھوں اپنا خاندان اور گاؤں چھوڑ کر 2008ٰمیں محنت مزدوری کرنے کیلیے کراچی جانے والے نقیب اللہ محسود وہ بد قسمت انسان تھے ۔ جنہیں 3 جنوری 2018 کو کراچی کے علاقے سراب گوٹھ گل آغا ہوٹل سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اغواء کر لیا۔ 13 جنوری کو ان کے رشتہ داروں نے میڈیا پر 4 دہشت گردوں کے لاشوں میں اپکی بکھری لاش زمین پر پڑی دیکھی۔ اور 17 جنوری کو چھیپا ٹرسٹ سے فون کال ائی کہ نقیب محسود کی لاش انکے سرد خانے میں پڑی ہے۔ ان کے بدبخت اقارب نے جاکر اسکی لاش وصول کی۔ اور اسطرح 1991 میں جنم لینے والے اس نوجوان کی ذندگی کی کہانی صرف 27 سال کی عمر میں اج 19 جنوری 2018 کو جنوبی وزیرستان میں  اہوں اور سسکیوں میں دفنانے کیساتھ ختم ہو جائیگی۔

کراچی کے ٹاؤن ملیر کے پولیس رپورٹ اور اس ظلم کے سرکردہ ایس ایس پی ملیر کے مطابق نقیب اللہ کا تعلق تحریک طالبان سے تھا۔ اور وہ پولیس کو مطلوب تھے۔ انکے مطابق نقیب محسود 2004 میں تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے گن مین تھے۔ تو بقول انکے اسے اسی بنیاد پر مارا گیا۔

ادھر ایس ایس پی ملیر راؤ انور اور اسکی پولیس ماورائے عدالت قتل پر پردہ ڈالنے کیلیے بڑی ٹیکنکل غلطیاں کرتے ہوئے غیر منطقی دلائل کا سہارا لے رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر نقیب محسود لمبے عرصے سے پولیس کو مطلوب تھے۔ تو پھر اسکو نقل مکانی کا سرکاری کارڈ کیسے جاری ہوا۔ جو سیکورٹی کلیئرنس کے بعد ہی جاری ہوتا ہے۔ اسی طرح نقیب اللہ محسود 13 سال کی نہایت ہی چھوٹی عمر میں کیسے بیت اللہ محسود کا گن مین بنا۔ اتنی چھوٹی عمر میں یہ ناممکن سی بات لگتی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے۔ کہ کوئی دہشت گرد اپنے چھوٹے بیٹے کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکر اسے پاکستانی فوجی افیسر بنانے کی خواہش کا سوچ ہی نہیں سکتا۔ جو نقیب اللہ محسود نے کیا ہے۔ اس کی امن پسندی کا اندازہ اسکی سوشل میڈیا کے اکاونٹ سے اسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔

اسکے علاوہ راؤ انور کہتے ہیں۔ کہ اگر وہ مزور ہے۔ تو پاس 70, 80 لاکھ روپے کہاں سے آئے۔ جس سے وہ دکان کھولنا چاہ رہے تھے۔ لیکن نقیب محسود کا خاندان اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ رہا ہے۔ کہ نقیب کو اسکے دبئی میں مقیم بھائی نے 4 سے 5 لاکھ روپے دکان کھولنے کیلیے دئیے تھے۔ اور اس سے قبل وہ حب میں بلال اور مکہ ملز میں کام کر رہے تھے۔ جنہیں وہ اب چھوڑ چکے تھے۔ انکے مطابق راؤ انور کی بات میں کوئی حقیقت نہیں۔
پولیس دیگر تضادات اور بے بنیاد باتوں کیساتھ نقیب محسود کو غیر شادی شدہ کا دعوی کر رہے ہیں۔ جبکہ نقیب کے خاندانی ذرائع کیمطابق اسکے دو سے نو سال تک دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

نقیب اللہ محسود کی ایکسٹرا جوڈیشل قتل نے پورے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں سے احتجاجی مظاہروں کو جنم دیکر الیکٹرانک , پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بڑا اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اور سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد سمیت سیاسی رہنماؤں کے بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اور راؤ انور پر قتل کا الزام زور پکڑ رہا ہے۔

اب یہ تو انے والے دن صحیح طرح بتا ئینگے۔ کہ اسکی ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کا کس طرح تحقیق کیا جاتا ہے۔ اسکے لیے کیسی جوڈیشل انکوائری کی جاتی ہے۔ پولیس سے تحقیقات کیلیے کہیں پولیس ہی کو کمیٹی کا حصہ تو نہیں بنایا جاتا۔؟

لیکن ایک سوچ, ایک احساس ایک وسوسہ اور ایک فکر جو ہر پشتون کو مسلسل اندر ہی اندر سے کھائے جا رہا ہے۔ کہ وہ کراچی, لاہور, پشاور, فاٹا سے لیکر کوئٹہ تک کیوں اتنے غیر محفوظ ہے۔ جہاں کسی کا گلہ کٹتا ہے۔ جہاں کوئی دھماکے میں مرتا ہے۔ جہاں اقتصادی, معاشرتی , سیاسی اور معاشی اآفات اتے ہیں۔ ان میں کسی نہ کسی رنگ میں پشتون کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بس یہی احساسات اور محرومیاں ہمیں اس بات پر قانع کر رہی ہیں۔ کہ نقیب محسود جیسے نوجوان پیدا ہوتے ہی گولی کھانے کیلیے ہیں۔ یہی لوگ راؤ انور جیسے سفاک قاتلوں کے گولیوں کے اصل حقدار ہوتے ہیں۔

ایڈیٹرنوٹ: سوال تو یہ ہے کہ جب نقیب اللہ محسود کا تعلق تحریک طالبان سے نہیں تھا تو اس کو مارنے کی اور کیا وجہ ہو سکتی ہے. کیا ایس اسی پی پلیر راوانور کی اس کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی تھی؟ کیا پچھلے دنوں راو انور پر جو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اس میں نقیب کا ہاتھ تھا؟ بے قصور نقیب کو مارنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے ابھی تک کوئی معلومات کیوں نہیں منظر عام پر آئیں؟‌ دوسری طرف پولیس بھی ابھی تک کوئی خاطر خواہ اطمینان بخش موقف نہیں اپنا سکی ہے.
پشتون کا استحصال واقعی ہو رہا ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنا استحصال خود ہی کروا رہے ہوں؟ سوشل میڈیا کے اس دور میں پاکستان کے کونے کونے تک آواز پہنچائی جا سکتی ہے. گلے شکووں سے کام نہیں چلے گا. جنہوں نے بندوق اٹھائی ہے وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکے ہیں. جمہوری آواز کو پزیرائی ملتی ہے اور ہم نے جمہوری طریقے سے ہی اپنے حقوق کا دفاع کرنا ہے. لیکن پختون ابھی تک اپنی جمہوری جنگ کیلئے درست لیڈرشپ کا انتخاب نہیں کر سکے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں