بنوں جیل سپرنٹنڈنٹ پر الزامات ۔۔۔ کچھ خدشات


رپورٹ: فرمان نواز


بنوں جیل سپرنٹنڈنٹ کے متعلق ایک ملازمہ نے جنسی ہراساں کرنے کی شکایت کی ہے جس کی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں ۔زینب کیس کے بعد ایسی خبر کا عوام میں فوری طور پر سرائیت کر جانا بالکل نیچرل ہے۔ میڈیا میں بھی آج کل ایسے کیسوں کی بھرمار ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے پاکستان میں ریپ زومبی کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔سب لوگوں کو اپنی بیٹیوں کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔
جیل والے واقعے میں سپرنٹنڈنٹ جیل کے متعلق فوراََ سب یقین کر بیٹھے کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ملزم کو فوراََ مجرم مان لیا جاتا ہے۔چونکہ اسی سپرنٹنڈنٹ کے متعلق پہلے بھی ایسے ہی ایک خبر گردش کر رہی تھی اس لئے اس دفعہ لوگوں نے فوراََ ہی یقین کر لیا۔میں ذاتی طور پر جب تک کوئی ٹھوس ثبوت نظر نہ آئے فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ بھی ہو سکتا یہ الزام جھوٹا ہو۔
الزام لگانے والی عورت نے سپرنٹنڈنٹ پر مالش کرنے کی فرمائش کا الزام لگایا ہے۔یہ جملہ پڑھتے ہیں بھارتی فلموں کے امریش پوری کی تصویر ذہن میں آئی۔کبھی کبھی فلموں میں وہ چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنے خواتین سے اپنے سانڈ جیسے جسم کی مالش کرواتے نظر آتے تھے۔سپرنٹنڈنٹ کی پہلی تصویر بھی ذہن میں ایسے ہی بنی۔بعد میں خیال آیا کہ الزام کے ساتھ فوراََ ہی میں نے کیوں اس بندے کو مجرم مان لیا۔
اب الزام جھوٹا ہے یا سچا لیکن اب تک موصوف کی خوب ذہنی مالش ہو گئی ہوگی۔ اس بار اگر موصوف اس الزام سے بری ہوتے ہیں تو ان کے لئے ایک مشورہ ہے۔میرے ایک سابقہ ہیڈ کا اُصول تھا کہ خواتین کو جب بھی میٹنگ کیلئے کال کرتے تھے تو آفس کی کھڑکیوں اور دروازوں پر کبھی پردہ نہیں گراتے تھے۔
دوسری بات یہ کہ جیل کے اند موجود قیدی بھی انسان ہیں ۔یہ مجرم ہیں لیکن حیوان نہیں۔ان کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔سنگین جرائم میں گرفتار مجرم بھی انسانی حقو ق سے محروم نہیں کئے جا سکتے۔ٹھیک ہے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہوتا ہے لیکن انہوں نے کل انسانیت کا قتل واقعی کیا نہیں ہوتا۔ہو سکتا ہے کہ جیل سپرنٹنڈنٹ سے ایسی کوئی غلطی ہوئی ہو جیسے کسی قیدی کو تنگ کیا ہو تو اس کی سزا خدا نے دوسری طرف فوراََ دے دی۔ذہنی مالش بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ لیکن اگر الزام صحیح ہے تو پھر مزید مالش کیلئے صاحب کو تیار رہنا چاہئے.
ہو سکتا ہے میری معلومات غلط ہوں لیکن سنا ہے کہ اسی جیل میں کچھ لوگوں کے ساتھ سپیشل سلوک کیا جاتا ہے۔جیل میں قید سب لوگ ایک جیسے سلوک کہ مستحق ہیں۔ سب کو ایک نظر سے دیکھنا جیل حکام کیلئے بہتر ہوگا۔ایک وقت تھا کہ خدا لوگوں کو چھوٹ دیتا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ خدا دروازے کے پاس بیٹھا ہے۔ ادھر ظلم کیا اُدھر خدا کاعذاب نازل ہوا۔ سب سرکاری اہلکاروں کو بدلتے حالات میں اپنے روئے تبدیل کرنے ہونگے۔سوشل میڈیا کے دور میں خبر لاکھوں لوگوں تک پلک جھپکتے پہنچ جاتی ہے۔پہلے تو فوج والے لکھتے تھے کہ خبردار خفیہ آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے ۔ لیکن اب تو ہر شخص کی جیب میں خفیہ آنکھ موجود ہے۔
کبھی کبھار دشمن سامنے سے وار نہیں کر سکتا تو الزام تو لگا سکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس عورت نے جھوٹا الزام لگایا ہے ۔ہو سکتا ہے یہ عورت جو کہہ رہی ہو وہ سچ ہو لیکن اگر معاشرے میں یہ ٹرینڈ چل نکلا تو اس کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ پھر مظلوم ، ظالم اور مکار کا پتہ چلانا مشکل ہو جائے گا۔ جس طرح آج کل غریبوں اور پیشہ ور گداگروں میں پہچان کرنا مشکل ہو گیا ہے ایسا ہی صحیح اور جھوٹ الزام لگانے والے کا پتہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔
خدا کا فضل ہے کہ بنوں میں وہ ماحول نہیں ہے جو بڑے شہروں کا ہے لیکن حالات اور روئے بدلتے دیر نہیں لگتی۔بے گناہ کو گناہگار اور گناہگار کو بے گناہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے لیکن معاشرے میں غلط ٹرینڈ چلنے سے روکنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے اور سرکاری اہلکاروں کو بے نقاب کرنا بھی اب بہت ضروری ہو گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں