حکمِ امتناعی نظر انداز تھلیسمیا سنٹرKGNمنتقل، لکی کا مریض خوار

بنوں زنانہ ہسپتال سے حکم امتناعی کے باوجود تھلیسمیا سنٹر کی مشینری خلیفہ گلنواز میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دی گئی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر آنے والے تھلیسمیا مریضوں میں سے کسی کو موت لاحق ہوئی تو میڈیکل سپر نٹنڈنٹ کے خلاف دعویٰ دائر کریں گے۔ ایڈوکیٹ ہائیکورٹ عرفان پیرزادہ نے بتایا ہے کہ نیشنل یوتھ آرگنائزیشن بنوں کے جنرل سیکرٹری قیموس خان کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ نے تھلیسمیا سنٹر کی وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال سے خلیفہ گلنواز میڈیکل کمپلیکس منتقل کئے جانے پر حکم امتناع جاری کی تھی ۔د رخواست میں عدالت عالیہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تھلیسمیا کے مرض میں مبتلا بچے اپنی محدود زندگی خون سے جیتے ہیں جو کہ زیادہ تر خون ان کو سکول اور کالجز کے طلباء سے میسر ہو تا ہے چونکہ مذکورہ سنٹر بنوں شہر میں واقع وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال بنوں میں قائم تھا اس لئے طلباء کوخون کا عطیہ دینے کیلئے یہاں آنے میں آسانی تھی ۔اب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے شہر سے دورمنتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں پر خون عطیہ کرنے کیلئے کوئی ڈونر ز نہیں جائیں گے۔ لیکن حکم امتناع کے باوجود وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال بنوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر دوست محمد خان نے توہین عدالت کرتے ہوئے سنٹر کی مشینری 20کلو میٹر فاصلے پر واقع خلیفہ گلنواز میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دی ہے۔ جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر زنانہ ہسپتال خون کے حصول کیلئے آنے والے مریضوں کو لواحقین کا شدید مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس دوران کسی بھی مریض بچے کو موت لاحق ہوئی تو ہم میڈیکل سپرنٹنڈنٹ زنانہ ہسپتال کے خلاف قتل کا دعویٰ دائر کریں گے ۔
دوسری طرف گزشتہ روز بنوں پریس کلب اپنی فریاد لیکر آنے والے عبدالعزیز ولد حبیب الرحمن ساکن لکی مروت نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ میں ضلع لکی مروت سے تھیلسیمیا مرض میں مبتلا بھائی کو خون کی فراہمی کیلئے تقریباً 60کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے بنوں شہر میں واقع وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال پہنچا لیکن یہاں سے تھلیسمیا سنٹر کومنتقل کیا گیا ہے جہاں جانا میرے لئے ممکن نہیں جبکہ پرائیویٹ کلینکل لیبارٹریوں میں بھاری رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بنوں میں تھلیسمیا مریضوں کی تعداد 2ہزار سے زائد ہے۔ جنہیں مذکورہ سنٹر سے بالکل مفت خون مہیا کیا جاتا تھا۔ اب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر دوست خان نے مذکورہ سنٹر کی عمارت کریک قرار دے کر یہاں سے منتقل کیا ہے جبکہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سنٹر کی عمارت میں کوئی کریکس نہیں تھی بلکہ اس سنٹر کو سیاسی شخصیات کی آشیر باد حاصل ہونے پر بورڈ آف گورنر کی ملی بھگت سے منتقل کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں