واپڈا بنوں کی عجیب منطق:دیہاتوں کو 500میں بجلی فروخت،سٹی میں ہزاروں کے بل

اقوام سورانی نے سورانی ون بجلی فیڈر کی بندش پر واپڈا پیسکو ک خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے بجلی بحالی کیلئے 24گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی۔ بجلی بندش سے واپڈا اور اقوام کے مابین تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا۔گزشتہ روز بنوں کے علاقہ سورانی کے چالیس دیہات کے مشران نے بنوں پریس کلب کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیر گل علی مرجان تحصیل ممبر، سابق ناظم ٹاون ملک رضا خان ، ملک اختر خان ، میوں محفوظ الرحمن اور دیگر نے کہا کہ واپڈا حکام ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے پر آئے ہیں۔ ہمارے لوگوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے بہت بڑا تصادم بن سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ واپڈا حکام سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے او ر بجلی بل کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے ماہانہ 500 روپے فی گھر معاہدہ ہوا تھا۔ جس کے مطابق بقاعدگی سے ہم بل ادا کررہے ۔لیکن واپڈا حکام سورانی ون بجلی کی ریکوری سوارنی ٹو اور تھری فیڈروں میں پر کر رہی ہے جبکہ ہمارے فیڈر کو دیوالیہ بنا دیا ہے۔ جس سے ہم نے واپڈا حکام کو آگاہ بھی کیا تھا اور انہی کی رپورٹ کے مطابق 600 میٹرز غلط تسلیم کئے گئے ۔جس کی بنیاد پر ہم پر لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ہم نے گزشتہ دنوں احتجاج کیا اس دوران پولیس ، ایکسین اور ایس ڈی او واپڈا کے مابین پھر معاہدے ہوئے لیکن واپڈا حکام نے معاہدے سے انحرااف کی روایت بر قرار رکھی۔
اُنہوں نے کہا کہ چند قبل غیرقانونی طور پر بجلی منقطع کرنے کے خلاف مکینوں میں اشتعال پیدا ہو کر بنوں کوہاٹ روڈ کو بند کیا گیا تو پولیس نے مذاکرات نے ایکسین اور ایس ڈی او کو بلایا جنہیں تصادم سے بچانے کیلئے حوالات میں بند کیا جس پر واپڈا حکام اور نام نہاد یونین ہائیڈرو الیکٹرک نے ایک بار پھر بجلی لائن کاٹ دی جبکہ تھانہ بسیہ خیل ، ڈی آئی جی بنگلہ اور پولیس لائن کی بجلی کاٹ دی جوکہ علاقہ کے عوام میں جان بوجھ کر اشتعال و انتشار پیدا کرنے کے مترادف ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ مکین معاہدے کے مطابق ریکوری کر رہے ہیں مگر فیڈرون کی ریکوری دوسرے فیڈر میں ظاہر کرنا واپڈا حکام کی نا اہلی ہے۔ اس کی سزا ہمیں نہ دی جائے ۔اُنہوں نے کہا کہ علاقہ سورانی سے تعلق رکھنے والے واپڈا اہلکار عمران کو صارفین کو معلومات دینے کے جھوٹے الزام پر بنو ں سے ٹانک تبدیل کیا گیا ہے جوکہ زیادتی ہے۔ اب واپڈا حکام کی زیادتوں سے عوام تنگ آگئے ہیں اور مزید کسی زیادتی اور نا انصافی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔اس لئے لوگوں میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے کہ 24گھنٹے کے اندر پولیس مقامات سمیت علاقہ کی بجلی بحال اور عمران کا تبادلہ منسوخ نہ کیا گیا تو ہزاروں افراد واپڈا کالونی کا گھیراؤکرکے راست اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوں گے اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری واپڈا حکام پر عائد ہو گی ۔

ایڈیٹر نوٹ: یہ 500روپے میں گھر گھر بجلی فراہمی کرنے والا آپشن بنوں سٹی میں کب ایپلائی ہوگا۔ہم 1000روپے دینے کو تیار ہیں۔ ایسی بادشاہی کو تو پشتو میں ……… سنگھ کی بادشاہی کہتے ہیں. آخر یہ کس قانون کے تحت ہر گھر کو 500روپے میں بجلی فراہم کی جا رہی ہے؟ یہ رقم جو واپڈا کو دی جاتی ہے پھر یہ کس طرح ایڈجسٹ کی جاتی ہے؟ کس کے بل سے یہ پیسے کٹتے ہیں اور کس تناسب سے ؟ کیا یہ یونٹ کا ریکارڈ ضائع کر دیا جاتا ہے؟ سورانی والے حق بجانب ہیں کہ واپڈا والے معاہدہ کر کے منحرف ہوئے ہیں. لیکن ہمیں یہ شکایت ہے کہ آخر جب سٹی کے لوگ بجلی بل بھی ادا کرتے ہیں تو لوڈ شیڈنگ باقی علاقوں کی طرح کیوں کی جاتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں