نقیب محبت،راؤنفرت کی علامت۔وردی والے، دہشتگرددونوں پختون کے قاتل:باز محمد

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ شہید نقیب اللہ محسود پر جھوٹے الزامات لگاکر شہید کیا گیا۔یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمیں کیوں ماراجارہا ہے۔ ان مظلوم عوام نے فاٹا میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وردی والے اور دہشت گرد دونوں ہمیں مار رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ راؤ انوار کے پیچھے کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ مضبوط لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔ ہم راؤ انوار کو گرفتار کرکے اس کے سینے میں چھپے ایک ایک راز سے قوم کو آگاہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔محافظ کی وردی میں قوم کے بچوں کو مارنے والا کسی صورت قابل معافی نہیں ہے۔تحقیقات کی جائیں کہ اسلام آباد ائیر پورٹ سے راؤ انوار کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔راؤ انوار اور اس کے تمام ساتھیوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ نقیب اللہ محسود کے لئے آواز اٹھانے والے ہر پنجابی، سندھی،بلوچ،سرائیکی،اردو بولنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔نقیب اللہ محسود کے لئے آواز نہ اُٹھانے والے بے غیرت ہیں۔ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کٹ مررہے ہیں۔ہم جھکنے یا بکنے والے نہیں آخری دم تک آپ کے شانہ بشانہ رہیں گے ۔محٖافظ کے لباس میں قوم کے بچوں کو مارنا کسی ریاست کی پالیسی نہیں ہوسکتی ۔آج حکومتوں کے مزے لینے والے ہمیں دعائیں دیں کہ ہمارے بچوں،جوانوں، بزرگوں اور خواتین نے ملک کے لئے لازوال قربانیاں دیں۔ اُنہوں نے نقیب اللہ محسود کے والدین کو یقین دلایا کہ وہ تنہاء نہیں بلکہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں ۔ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔اگر نقیب اللہ کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتی تو مرکزی و صوباء حکومتیں مستعفی ہو جائیں۔عوام کی عزت و آبرو کی حفاظت نہ کرنے والوں کو حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ نقیب اللہ محسود کی شہادت کی بدولت ظالم بے نقاب ہو۔ا راؤ کی کیا مجال کے ہمیں نشانہ بنائے۔ شہید نقیب کے قتل میں ملوث تما گروہ کو بے نقاب کرکے سر عام بھرے بازار پھانسی دی جائے۔ اصل دہشت گردوں کی سرپرستی کی جاتی ہے اور بے گناہ پختونوں کو دہشت گرد قرار دیکر مارا جاتا ہے۔ہم پختون ہیں مر سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے۔ نقیب اللہ محسود قوم کا ہیرو ہے اس کے ساتھ کیا سلوک گیا ہم شہیدوں کے ٹکڑے جمع کرنے والے لوگ ہیں۔بد قسمتی سے سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں اور بدنام بھی ہمیں کیا گیا ۔ایک ایک ظلم کا حساب لیں گے۔راؤ انوار کا سرپرست کوئی بھی ہو مگر ہمیں نقیب اللہ محسود کے خون کا حساب چاہئے،نقیب اللہ محسود محبت کی علامت اور راؤ انور نفرت کی علامت بن چکا ہے ۔


ایڈیٹر نوٹ: کیا ہی بہتر ہوتا کہ باز محمد خان تخصیص کر لیتے کہ وردی والے سے مراد کس کی ہے. پولیس اور فوج دونوں وردی پہنتے ہیں. اگر ان کو شکایت فوج سے ہے تو سینٹ میں بیٹھ کر فوج سے بات کرنا کوئی مشکل نہیں. ذومعنی الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہئے. بے شک فوج کے سیاسی کردار پر جتنی تنقید کی جائے کم ہے لیکن کیا سیاستدانوں کو فوج نے ترقیاتی کاموں سے بھی منع کیا ہے. آخر کیا وجہ ہے کہ سیاستدان ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی کی ذمہ داری کیوں نہیں لیتے. چلو فوج فارن پالیسی میں کسی کو پر مارنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن ترقیاتی منصوبوں میں تو فوج نے کبھی مداخلت نہیں کی. پختون مر رہے ہیں لیکن پختون دقیانوسی خیالات و نظریات کو بھی خود سے جڑا رکھتا ہے. ترقی پسند سوچ کے راستے پختون نے خود بند کئے ہیں یا کسی نے ہم پر اس کو بزور نافظ کیا ہے؟ پختون دوسروں کی جنگ خود لڑ سکتا ہے تو ترقی کی کیوں نہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں