بیوٹیفکیشن پراجیکٹ میں مزید پانچ منصوبے شامل ، لیکن گردانلی گلی؟؟؟

بنوں بیوٹیفکیشن منصوبہ، انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے مزید پانچ منصوبے منظور کر کے بیوٹیفکیشن پراجیکٹ میں شامل کر دیئے۔ ان منصوبوں میں میریان گیٹ تا مال منڈی روڈ کی توسیع ، مین ککی بازار روڈ کی توسیع اور تعمیر، تحصیل آفس بنوں کی تزین و آرائش اور باتھ رومز کی تعمیر ، بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ کی راہ میں آنے والے واپڈااورٹیلیفون کے کھمبے کو اکھاڑ کر سائڈ میں لگانا، صاف پانی کی ترسیل کیلئے نئے پائپ لگانے کیسات ساتھ تین عدد بڑے بڑے سکرین شامل ہیں جس پر اگلے چند دن میں کام شروع ہوجائیگا ۔ڈپٹی کمشنر بنوں محمد علی اصغر نے اپنے آفس میں میڈیا کو بتایا کہ بنوں کے عوام کی دیرینہ خواہش مختلف کھلی کچہریوں میں نوٹ کئے گئے۔ مطالبات کی روشنی میں وہ کام جو بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ میں شامل نہیں تھے اب بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ میں شامل کردیئے گئے ہیں جس کے مطابق میریان گیٹ تا مال منڈی پرانی دیوار گرا کر روڈ کی توسیع کی جائے گی ۔اس کے علاوہ مین ککی بازار روڈ کی توسیع اور اس کوتعمیر بھی کیا جائے گا۔ اسی طرح تحصیل آفس بنوں کی تزین و آرائش اور اس میں باتھ رومز تعمیر کئے جائیں گے۔ اُنہوں نے بتایا کہ بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ کی راہ میں آنے والے واپڈااورٹیلیفون کے کھمبے کو اکھاڑ کر سائیڈ میں لگائے جائیں گے کیونکہ اس سے خوبصورتی کافی متاثر ہو رہی تھی ۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ صاف پانی کی ترسیل کیلئے بنوں سٹی میں نئے پائپ لگانے کیساتھ ساتھ بڑے شہروں کی طرح تین عدد بڑے بڑے سکرین بھی سٹی کے مختلف مقامات پر لگائے جائیں گے۔ واضح رہے صوبائی حکومت کی طرف سے ضلع بنوں کیلئے ایک ارب روپے بیوٹیفکیشن فنڈ کی منظوری دی گئی ہے ضلعی انتظامیہ نے مزید پانچ مذکورہ بالا منصوبے منظور کر لئے ۔


ایڈیٹر نوٹ: پچھلے دنوں پاکستان کے چیف جسٹس نے تقریر کی طوالت کیلئے خواتین کے سکرٹ کی لمبائی کا سہارا لیا تو تنقید کی توپوں کی گولہ باری کی شدت کی وجہ سے چیف جسٹس کو معافی مانگنی پڑی۔حیران کن طور پران خواتین اور حضرات نے بھی تنقید کی جوسکرٹ پہننے کے خلاف ہیں ۔چونکہ آج ڈی سی بنوں کو ایک گلی کی روداد سنانے کیلئے میں بھی خواتین کے متعلق کچھ الفاظ استعمال کروں گا تو اس لئے ایڈوانس میں خواتین سے معافی مانگتا ہوں اور ان لوگوں سے بھی جو عمومی طور پر خواتین کی عزت کرتے ہیں۔
گردانلی گلی بنوں کی مصروف ترین تجارتی گلی ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سب سے پہلے اس گلی کو پختہ کیا جاتا کیونکہ بنوں اور ملحقہ علاقوں کے لوگ اس گلی میں خریداری کیلئے آتے ہیں اور پورا دن رش رہتا ہے۔اس گلی کیلئے میں نے کوشش کی کہ کوئی واقعہ یا ضرب المثل ہاتھ لگ جائے ، یا کوئی شعر ملے جو اس گلی کی اہمیت کو چار چاند لگائے لیکن کچھ پلے نہیں پڑا۔ اچانک بنوں کے مشہور سوشل کامیڈین چئرمین کی بات یاد آئی۔ موصوف نے ایک بار کہا تھا کہ لوگ آدھ کلو گوشت خریدتے ہیں تو تین شاپرز میں بند کر کے موٹرسائیکل کے ساتھ باندھ دیتے ہیں کہ کہیں گر نہ جائے لیکن گھر سے منوں گوشت گردانلی گلی آیا ہوتا ہے لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔منوں گوشت سے موصوف کی مراد خواتین ہیں۔ مجھے اور میری بیوی کو اس لطیفے سے اختلاف ہے کہ خواتین اس گلی میں کوئی غیر اخلاقی کام کرنے نہیں آتی اور اس لطیفے سے اگر ایک طرف خواتین کے کردار پر شک کیا جاتا تو دوسری طرف اس میں مردوں کی اجارادری بھی پوشدہ ہے۔ لیکن اس لطیفے سے ایک یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بنوں کی خواتین اس گلی میں ضرورت کا سامان خریدنے آتی ہیں۔لیکن یہ بات شاید ڈی سی صاحب ،جس کو میرا بیٹا بلڈوزر ڈی سی کہتا ہے ، کو کسی نے نہیں بتائی کہ بنوں کی تقریباََ ساری گلیاں پختہ ہو چکی ہیں لیکن گردانلی گلی میں خواتین جنہوں نے اپنے منہ برقعوں میں چھپائے ہوتے ہیں پل صراط پر چل رہی ہوتی ہیں۔گردانلی گلی کا فرش ایسا ہے جیسے جہادی دور کی جلال آباد کی گلیاں ۔ ڈی سی صاحب سے گزارش ہے کہ کبھی اس گلی میں بھی تشریف لائیں اور حالات کا جائزہ لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں