بنوں میں VVS سسٹم کامیابی کی طرف گامزن

ڈی پی او صادق بلوچ اور ایڈیشنل ایس پی بنوں حسن افضل کی خصوصی ہدایات پر وی وی ایس پولیس ٹیم روزانہ کی بنیاد پر بنوں کے مختلف شاہراہوں پر گا،ڑیوں کی چیکنگ کے لئے ناکہ بندیاں کرتی ہے جس میں پولیس ٹیم وی وی ایس سسٹم کے ذریعے چوری شدہ گاڑیاں ، ٹیمپرڈ گاڑیاں ، بوگس رجسٹریشن پر چلانے والی گاڑیاں اور این سی پی گاڑیوں کو ٹریس کرکے ان کے خلاف فوری طور پر قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہے.
وی وی ایس ٹیم بنوں نے سال 2017 میں 41 بڑی گاڑیاں اور 23 موٹرسائیکلوں کو وی وی ایس سسٹم کے ذریعے ٹریس کرکے قبضہ کیا اور جن کے خلاف 523 550 /419،420،468،471 اور نن کسٹم پیڈ گاڑیوں کو کسٹم حکام بنوں کو تحریری طور پر حوالہ کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی .
تقریبا دو ہفتے پہلے تھانہ منڈان اور تھانہ کینٹ کی حدود میں وی وی ایس ٹیم نے ناکہ بندیوں پر دو عدد این سی پی گاڑیوں کو حراست میں لے لیاتھا جس میں ایک ٹیوٹا پراڈو ماڈل 1990 اور دوسری ٹیوٹا ویٹز ماڈل 2001 تھی. دونوں گاڑیاں کو 20 منٹ کے اندر اندر کسٹم حکام کو تحریری طور پر حوالہ کی گئی.
دو دن پہلے وی وی ایس ٹیم تھانہ منڈان کے سامنے ناکہ لگائے ہوئے کھڑی تھی، دو عدد موٹر کار سزوکی مہران گاڑیاں وی وی ایس ٹیم نے چیکنگ کیلئے روکی، گاڑیوں پر لگے رجسٹریشن نمبر کو وی وی ایس سسٹم پر چیک کرانے کے بعد دونوں گاڑیوں کے چیسیز نمبرز اور انجن نمبرز میں تضاد پائے گئے جب انچارج وی وی ایس عادل جبران کو دونوں گاڑیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو اس نے نہ صرف دونوں گاڑیوں کے اوریجنل رجسٹریشن نمبرز معلوم کئے بلکہ اس نے بتایا کہ اس میں ایک گاڑی تھانہ مغلپورہ لاھور کو جرم A381 میں مطلوب ہے اور دوسری گاڑی تھانہ پیپل کالونی ضلع فیصل آباد کو جرم 381A میں مطلوب ہے. دونوں گاڑیوں اور ڈرائیورز کو حراست میں لے کر ان کے خلاف تھانہ منڈان میں 419 420 411 کا پرچہ دیا گیا. تھانہ صدر کے حدود میں دو عدد ٹیوٹا صرف جیپ کو حراست میں لیا گیا. جس کے رنگ ، رجسٹریشن نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن کاپی سب کچھ ایک جیسا تھا. اس کی کلیئرنس کے لیے انچارج وی وی ایس عادل جبران کو بلایا گیا جس نے اپنے وی وی ایس سسٹم اور تجربے کی بنیاد پر ایک گاڑی کو کلیئر قراردیا جس کے ساتھ سارے کاغذات پورے اور درست نکلے اور وی وی ایس سسٹم پر بھی وہ کلیئر نکلی اور دوسری گاڑی کے کوئی کاغذات پیش نہیں کئے اور وی وی ایس سیسٹم پر بھی ان کا ڈیٹا غلط نکلا جن کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں