بنوں: ہم سکولوں کو بھی مدارس میں تبدیل کر دیں گے: مولانا حنیف جالندھری

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم مولانا حنیف جالندھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں مغربیت رائج کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے جو کہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایسے چیلنجز کا سامنا دین کے پہرے دار علماء کرام نے کرنا ہے ۔پاک فوج اس ملک کے جغرافیائی سرحدات جبکہ علماء کرام نظریاتی سرحدات کے پہرے دار ہیں ۔جب بھی ملک پر کوئی جغرافیائی آفت آئی ہے تو علماء کرام نے صف اول کا کردار ادا کیا ہے اسی طرح فوج کو بھی چاہئے کہ وہ بھی ہمارے نظریاتی پہرے داری کریں۔ اس وقت ملک کو مغربی ایجنڈے کے تحت سیکولر بنانے کی کوششیں عروج پر ہیں جس میں بغیر نکاح کے مرد اور عورتوں کے درمیان جنسی تعلقات رکھنے کی آزادی ہو گی جس کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جا رہے ہیں ۔دینی مدارس دین اسلام کے مضبوط قلعے ہیں جس کو سکولوں میں تبدیل کرنے کیلئے قوانین بنائے جارہے ہیں لیکن ہم سکولوں کو مدارس میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں نہ کہ مدارس کو سکولوں میں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نصاب تعلیم میں بار بار تبدیلی کرنے کی کوششیں کی ہے لیکن ہم نے ایسا نہیں کرنے دیا اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں المرکز اسلامی پاکستان میں خدمات وفاق المدارس العربیہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کہ اس موقع پر مولانا اصلاح الدین ،مولانا سید نسیم علی شاہ الہاشمی اور ڈسٹرکٹ خطیب مفتی عبدالغنی ایڈوکیٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ورلڈ بنک ،آئی ایم ایف بنک نے ہمیں سرکاری مراعات اور تنخواہیں دینے کی آفر کی ہے جسے ہم نے مسترد کیا ہے کیونکہ انہوں نے پاکستان کو جو امدادی رقوم دی ہے اس کے بدلے میں پاکستان کا جوحشرکیا ہے وہ ہم مدارس کا نہیں بنانا چاہتے ہیں ۔ہم مکمل آزادی چاہتے ہیں اور اسمبلی کے فلور پر بنائے گئے قوانین پر قائم ہیں مگر ہم کسی حکومت یا مخصوص شخصیات کے پابند نہیں۔ مگر حکومتیں خود اُن قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔اب حالیہ حکومتی امداد کے حوالے سے وفاق کا یہ فیصلہ ہے کہ کوئی سرکاری امداد نہ لی جائے۔ اسی لئے تمام مدارس کے علماء کرام کو چاہئے کہ وہ کوئی سرکاری امداد قبول نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی (س ) کے مولانا سمیع الحق ایوان کے باہر اور اندر دین اسلام کے تحفظ کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہم وفاق المدارس اور مدارس میں دین اسلام کے تحفظ کیلئے بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس پر اس وقت رجسٹریشن کا ایک بہت بڑا مسئلہ آن پڑا ہے جس کے حل کیلئے ہر فورم پر جدوجہد کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں فوجی آپریشنوں کے دوران بیشتر مدارس متاثر ہوئے ہیں جس کو بحال کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔انہوں نے علماء کرام سے تمام متاثرہونے والے مدارس کی جامع رپورٹ پیش کریں تاکہ اسی کی مناسبت سے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت آرمی چیف کے سامنے پیش کی جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیر ستان،جنوبی وزیرستان اور دیگر حصوں میں جتنے بھی مدارس متاثر ہوئے ہیں فوری طور پر بحال کئے جائیں اور نئے مدارس کیلئے رجسٹریشن عمل کو آسان بنایا جائے تاکہ علماء کرام اپنی دینی خدمات کو جاری رکھ سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں