بنوں:سینٹ انتخابات میںPTI کے17ممبران نےاپنی پارٹی پرعدم اعتماد کیا:حیدر ہوتی

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے پی ٹی آئی کی تبدیلی سینیٹ انتخابات میں عیاں ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس 69ممبران ہیں لیکن ان کے امیدواروں اعظم سواتی نے 48اور حمایت یافتہ سمیع الحق نے چار ووٹ لئے ۔پتہ نہیں باقی 17 ممبرا ن کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ؟ نئے پختونخوا میں یہی تبدیلی تھی کہ ممبران اپنے ضمیر کا سودا کریں؟ اُنہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ممبران نے اپنی ہی حکومت پر عدم اعتماد کیا ہے۔ آئندہ عام انتخابات میں انشاء اللہ خیبر پختونخوا کے عوام ووٹ کی صورت میں پی ٹی آئی پر عدم اعتماد کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنوں میں سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ جنوبی اضلاع کے جرگہ سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ جرگہ میں ضلع بنوں ، کرک ، کوہاٹ ، ہنگو ، ڈی آئی خان ، ٹانک اور شمالی وزیرستان سمیت جنوبی اضلاع کے کارکنوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی جس میں سابق صوبائی وزیر سید عاقل شاہ ، شازیہ اورنگزیب،سابق خاتون ایم پی اے یاسمین ضیاء ،ارباب طاہر ،نوابزادہ محسن علی خان و دیگر پارٹی ذمہ داران بھی موجود تھے ۔جرگہ سے سابق سینیٹر حاجی با ز محمد خان ایڈووکیٹ ، اے این پی کے ضلعی صدر حاجی عبدالصمد خان ، جنرل سیکرٹری ناز علی خان ،شیر ولی باغی اورملک ریاض بنگش و دیگر نے بھی خطاب کیا۔سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پاکستان کے تمام اقوام اپنے اپنے لیڈروں کے پیچھے جمع ہو گئے ہیں بدقسمتی سے ہم پشتون اپنے آپ کو پہچان نہ سکے۔آج بنوں سے جرگہ کی شکل میں مہم کا آغاز کر رہا ہوں کہ ہم مزید پشتونوں کے استحصال کسی صورت تسلیم نہیں کرتے ۔آفسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک طرف پشتونوں کاا ستحصال تو دوسری طرف ہمارے صوبے کے وزیر اعلیٰ کنٹینر پر چڑھ کر رقص کر رہے ہیں ۔صوبائی حکومت دعوے تو کر رہی ہیں کہ ہم نے بہت کچھ کیا مگر عمران نیازی کو بنوں کے عوام نے جلسہ میں تبدیلی کا پوچھنے پر جواب دیا کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہم حکومت سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں آزمائشیں تھی دہشت گردوں کا سامنا تھا ۔وزیر اعلیٰ کا کام صوبے میں ترقیاتی منصوبے، تعلیمی ادارے، ہسپتالیں، بجلی کا نظام ٹھیک کرانا ہو تا ہے۔ کنٹینرز پر کھڑے ہو کر ناچنا نہیں۔ آج پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کہتی ہے کہ ہم نے اے این پی کو ختم کیا ہے مگر ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ انگریزوں، خود کش حملے، دھماکوں نے اے این پی کو ختم نہیں کیا کیونکہ اے این پی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ وہ پشتونوں کی ایک تحریک ایک سوچ ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے صوبے کے بچہ بچہ مقروض بنادیا ہے۔ صوبائی حکومت قرضے لے رہی ہے جو عوام سے ٹیکس کی صورت میں وصول کرے گی۔ سابق حکومتوں میں قرضہ لیتے وقت عمران خان تنقید کرتے تھے آج اپنے وزیر اعلیٰ اور حکومت کے لئے گئے قرضے پر کیا کہیں گے ۔صوبائی حکومت کی اعلان کردہ ترقیاتی منصوبے فنڈز کی عدم موجودگی کے باعث آدھورے پڑے ہیں ۔صوبائی حکومت تنگ نظری کی بنیاد پر با چا خان اور عبدالولی خان کے نام پر منسوب یونیورسٹیوں کو فنڈز فراہم نہیں کر رہی۔ ہم اقتدار میں آکر صوبے کے تمام یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو فنڈز دیں گے اور ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی بنائیں گے ۔ہم کوئی تنگ نظری اور بغض نہیں رکھتے۔ پشاور میں کینسر ہسپتال کیلئے زمین ہم نے دی ہے۔ مستقبل میں انشاء اللہ صوبے میں بچوں کیلئے تین جدید طرز پر ہسپتال بنائیں گے جس میں ایک جنوبی اضلاع میں بنایا جائے گا۔آب پاشی اور آبنوشی کے منصوبے ،قدرتی گیس کی فراہمی اور روز گار کیلئے بلا سود قرضے جاری کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں لنک روڈ تو دیئے جا رہے ہیں مگر آفسوس ہے کہ گوادر تک موٹر وے کیوں نہیں دی جا رہی۔ باجوڑ سے وزیرستان تک انگریز نے جو لکیر کھیچی ہے وہ تسلیم نہیں کریں گے۔ اسی طرح پاک چائنہ اقتصادی راہداری میں اپنا حصہ ،پختونوں کا اتفاق اور اپنے وسائل پر اپنا اختیار ہماری ہدف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں