ایک ہفتہ پہلے NTS کے پیپرOUT ہونے کا انکشاف، محکمہ تعلیم کا موقف مختلف

این ٹی ایس کے زیر اہتمام اساتذہ بھرتیوں میں بدعنوانیوں کے خلاف اُمیدواروں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ آئندہ ہفتے اور اتوار کو ہونے والے سائنس ٹیچر کے امتحان کے پرچہ جات ابھی سے فوٹو سٹیٹ دکانوں پر موجود ہیں۔ گزشتہ روز این ٹی ایس کے زیر اہتمام اساتذہ کی بھرتیوں کے امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف اُمیدواروں سلیم آزاد خان ،سعید خان اور دیگر نے بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے زیر اہتمام اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے امتحانات میں سنگین بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔ حالیہ دنوں ہونے والے امتحانات میں پرچہ جات امتحان شروع ہونے سے قبل دکانوں پر موجود تھے جو لاکھوں روپے کے عوض بیچے جا رہے تھے ۔جس پر محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے حالیہ امتحانات کے نتائج کو منسوخ کر دیا۔ اب آئندہ ہفتے اور اتوار کو سائنس ٹیچر کے امتحان کے پرچہ جات ابھی سے یعنی ایک ہفتہ قبل سے فوٹو سٹیٹ کی دکانوں میں موجود ہیں۔ جس کے باعث محنت کرنے والے اُمیدوار وں کی حق تلفی ہو جاتی ہے کیونکہ بازاروں سے پرچہ جات خرید کر لانے والے اُمیدوارنقل کے ذریعے سے امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات سے ایک ہفتہ قبل امتحانی پرچہ جات کا بازار میں موجودگی بدعنوانی کے ریکارڈ توڑنے کے مترادف ہے۔ اُمیدواروں نے ہزاروں روپے ادا کرکے روزگار کیلئے ان ان پوسٹوں کیلئے اپلائی کی ہے مگر اب این ٹی ایس کے اہلکار ان اُمیدواراوں کی حق تلفی پر اُ تر آئے ہیں انہوں نے کہا کہ فوری طور پر تمام کیڈرز کے امتحانات کو منسوخ کرکے نئے سرے سے شفاف طریقے سے امتحانات کا انعقاد کیا جائے بصورت دیگر ہم بھر پور احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔
جبکہ ڈان اخبار کے مطابق محکمہ تعلیم نے کہا ہے کہ ٹیسٹ سے پندرہ منٹ پہلے ٹیسٹ آوٹ ہوا تھا۔اور ایسا صرف پی ایس ٹی میں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں