پاک افغان بارڈر غلام خان کو تجارت کیلئے کھول دیا گیا

پانچ سال بعد پاک افغان بارڈر غلام خان کو تجارت کیلئے کھول دیا گیا ۔شمالی وزیرستان میرانشاہ سے لوڈ گاڑیوں کا پہلا قافلہ پولیٹیکل ایجنٹ نے روانہ کیا۔ پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب سال 2014میں شدت پسندی کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع ہوا تو پاک افغان بارڈر تجارت کیلئے بند کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے کاروبار پر کافی اثر پڑا تھا۔ پولیٹیکل انتظامیہ کسٹم اور پاک فوج حکام کی موجودگی میں دعائے خیر کے ساتھ لوڈ گاڑیوں کا پہلا قافلہ افغانستان کیلئے روانہ کردیا گیا۔
براستہ غلام خان دوبارہ تجارت کیلئے بحالی نہ صرف قومی مفاد میں ہے بلکہ شمالی وزیرستان میں ترقی و روزگار کیلئے نئی راہیں کھلیں گی۔ تجارت کی بحالی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور دونوں ممالک میں دوستی امن اور بھائی چارے کا پیغام بھی ہے ۔
تجزیاتی رپورٹ کے مطابق پاک افغان کے درمیان تجارت کیلئے براستہ غلام خان انتہائی قریب ترین راستہ ہے ۔تجارت کیلئے راستہ کھولنا نہ صرف علاقے کی ترقی کیلئے اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس سے مختلف علاقوں کے لوگوں کو بہتر روزگار کے مواقع میسر ہو نگے اور کاروبار میں بھی اضافہ ہوگا ۔غلام خان کا راستہ افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے بند ہونے کی وجہ سے تاجروں کو مشکلات کے ساتھ ساتھ نقصانات کا بھی سامنا تھا ۔جب مختلف کاروباری افراد سے بنوں میں بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ جب روٹ پر تجارت کیلئے آزادی تھی تو ہمارے کاروبار کروڑوں میں چل رہے تھے۔ لیکن جب غلام خان کو افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے بند کیا گیا تو ہمارے کاروبار تباہ ہوگئے اور آج حالات یہاں تکپہنچ گئے تھے کہ کاروبار میں صرف کرایہ بمشکل کمایا کرتے تھے لیکن حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اور غلام خان بارڈر کو تجارت کیلئے کھول دیا ہے اس سے انشاء اللہ ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور کاروبار ایک بار پھر چار گنابڑھ جائیگا اور ساتھ میں یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مستقل بنیادوں پر دونوں اطراف سے تجارت جاری رکھی جائے ۔اس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان محبت بڑھے گی اور یہ امن کی پائیداری کیلئے بہترین ثابت ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں