بنوں: سرکاری سکول کی ملکیت کا تنازعہ، سکول بند

دو فریقین کے تنازعہ کی وجہ سے بند سرکاری سکول ایک ہفتہ گزرنے کے باؤجود تعلیمی سرگرمیوں کیلئے نہ کھل سکا. سکول انتظامیہ کے مطابق گورنمنٹ پرائمری سکول شمشی خیل خاص جو کہ 1902میں تعمیر ہوا تھا ،پر دو فریقین کے مابین ملکیت کا تنازعہ چل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں 13/03/2018کو سکول میں حکومتی فنڈ سے مزید 2 کمروں پر تعمیراتی کام شروع کردیا گیا تھا کہ ایک فریق نے تعمیراتی کام کو روک دیا کہ مذکورہ سکول ہمارا ہے جبکہ سکول کا چوکیدار بھی سکول کی ملکیت کا دعویدار ہے ۔ تاہم دونوں فریقین کے مابین ملکیت کے تنازعہ کے باعث تعمیراتی کا م کو روکنا پڑا جبکہ تنازعے کے حل تک سکول کو بھی بند کر دیا گیا۔ سکول انتظامیہ کے مطابق اس وقت سکول میں 5سو کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں جن کی سکول بندش کے باعث تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بنوں ،اسسٹنٹ کمشنر بنوں ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور متعلقہ تھانہ غوریوالہ کو درخواست دی ہے لیکن تاحال اس مسئلے پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے اور مسئلہ بدستور جوں کا توں ہے ۔ کسی بھی ادارے کی جانب سے سکول بندش اور بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کیلئے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا ہے اور آب ایس ایچ او غوریوالہ سکول سٹاف کو دھمکا رہا ہے کہ میں ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرونگا جو سکول کے بارے میں میڈیا کو خبر دے رہے ہیں ۔

ایڈیٹر نوٹ: کل ہی کی خبر ہے کہ تنارعات حل کونسل نے بنوں میں سال 2017میں 450 تنازعات حل کئے ہیں۔آخر کیا وجہ ہے کہ مذکورہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا؟ روڈ بنانے کیلئے تو حکومت سینکڑوں کنال زمین خرید سکتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ سرکاری سکول کیلئے زمین خریدنے کی بجائے کسی کی ڈونیٹ کی ہوئی زمین پر سکول تعمیر کر دیا جاتا ہے اور مستقل کچھ نوکریاں بھی    ڈونر کو دی جاتی ہیں۔یہ مسئلہ فریقین کا کم اور حکومت کا زیادہ پیدا کردہ ہے۔
جب زمین کسی سے لی جاتی ہے تو اسی خاندان کو ایک دو نوکریاں بھی دی جاتی ہیں. بعد میں قانون وراثت کے تحت جب زمینیں تقسیم کر دی جاتی ہیں تو سکول کی زمین کا مسئلہ درد سر بند جاتا ہے اور نوکریوں کا بھی. مذکورہ مسئلہ بھی شاید اسی نوعیت کا ہو. سکول انتظامیہ کو چاہئے کہ جب سکول بندش کی خبر میڈیا تک پہنچا دی ہے تو فریقین کا موقف بھی میڈیا کو بتا دیتے تاکہ عوام کو اس قسم کے مسائل کی نوعیت کا صحیح اندازہ ہو جائے.
دوسری طرف مسئلہ صرف ملکیت کا نہیں بلکہ تعلیم کی جگہ کی ملکیت کا ہے. مذکورہ فریقین کو بھی چاہئے کہ مسئلہ کے حل کیلئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ تعلیم کا حرج بھی نہ اور مسئلہ بھی خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے. کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا سخت موقف حکومت کو ایسے حل پر مجبور کر دے کہ دونوں فریقین کو نقصان اُٹھانا پڑ جائے.
پولیس نے واقعی اگر سکول انتظامیہ کو دھمکی دی ہے تو یہ انتہائی افسوس ناک ہے. پوری دنیا میں اساتذہ کرام کو عوام، پولیس اور عدالتیں بہت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں. میڈیا تک خبر کو آنے سے تو روک دیا جائے گا لیکن سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں. سوشل میڈیا پر خبر کو کسی بھی تناظر میں پیش کیا جا سکتا ہے. مین سٹریم میڈیا میں کم از کم خبر کو جوں کا توں رہنے کی روایت ایک حد تک برقرار ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں