مخالفین طعنے دیتے رہے ، ہم نے ائیرپورٹ،غلام خان شاہراہ جیسے منصبوں پر کام کیا:دُرانی

اکرم خان دورانی نے بنوں یونیورسٹی میں تقیب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی نے گھر کے سربراہ کی حیثیت سے بہترین انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے اور یہاں پر بدنظمی کا ماحول ختم کردیا ہے ۔نظم وضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے۔ اسی طرح اکرم خان دُرانی کالج اپنے نظم وضبط اور سامنے آنے والے نتائج سے ایک مثال بن گئی ہے اور دوسرے کالجز ان کی تقلید کرنے لگے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بنوں کے کئی اہم شخصیات ملک کے اہم عہدوں پر رہے لیکن وہ اپنے خطہ کیلئے کچھ نہ کرسکے اور ہمیں اُن اپنوں سے شکایت بھی ہے کہ اُن کو اپنی مٹی سے محبت کیوں نہیں تھی مگر ہمیں اپنی مٹی سے محبت ہے اس لئے ایسے ادارے ہونے چاہئے جو بنوں کو دوسری قوموں کے مقابلے میں کھڑا کردے ۔جس سے حوصلہ ، فہم اور عملی کام کاموقع بھی دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ملک پر اتنا ہمارا حق بھی ہے جو کسی دوسرے کا ہے۔ ہم نااہل نہیں سی پیک کا منصوبہ اسلام آباد سے ہوکر جارہا تھا اور خیبرپختونخواہ کا صرف ہزارہ بیلٹ اس میں آرہا تھا ہم نے ڈیرہ اسماعیل خان سے گزارنے پر مجبور کردیا اور آج بنوں ، کرک ، لکی مروت سے سی پیک کو ملادیا ہے جبکہ کاشو پل پر انڈسٹریل اسٹیٹ بھی بنے گا اور منصوبے کا یہ حصہ 14 اگست 2018 ء تک مکمل ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ مخالفین طعنے دے رہے تھے کہ اکرم دُرانی لفظی باتیں کررہے ہیں کو ئی انٹرنیشنل ائرپورٹ نہیں بنے گا مگر ہم نے ثابت کردیا ہے اور 75 کروڑ روپے بنوں انٹرنیشنل ائرپورٹ کیلئے ریلیز بھی ہوچکے ہیں اور تجارت کا راستہ اس خطہ ء پر بنانے کیلئے غلام خان شاہراہ کا منصوبہ مکمل کیا۔ اس کے باوجود ہمارے بعض نوجوان تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور اس ننگا کلچر کا ساتھ دے رہے ہیں ۔مگر ہم اپنے بزرگوں اور دین اسلام کے خوبصورت کلچر کو ختم نہیں کرنے دینگے جس کیلئے ہمارے قائدین نے خون کی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنوں کی تعمیر وترقی اور یہاں کے باسیوں کے حق کیلئے جب تک زندہ ہوں خون کے آخری قطرے تک جدوجہد کرونگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں