ڈی سی بنوں کے نرالے فیصلے

تحریر: فرمان نواز


طالبان دور میں خواتین کو خیرات مانگنے سے زبردستی روکا جاتا تھا اور مارپیٹھ بھی کی جاتی تھی لیکن خواتین کو نہ تعلیم کی اجازت تھی اور نہ ہی کام کی. جہادی دور کے بعد لاکھوں خواتین بیواہ ہوئیں لیکن ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے بھیک مانگنے والی خواتین کو زدوکوب کیا گیا. بھیک مانگنا بے شک غیراخلاقی اور غیر اسلامی ہے اور ان کو روکنا طالبان کی اسلام دوستی کی دلیل ہے لیکن پیٹ کی آگ بھی قدرت کی دین ہے.
اسی طرح چوری کے مرتکب افراد کے ہاتھ پیر طالبان کاٹ دیتے تھے اور سر عام اس کی تشہیر بھی کی جاتی تھی. کم عمر لڑکے کے ہاتھوں میں وہی کٹے ہاتھ پیر لئے تصویریں آج بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں. بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے سخت سزاووں کے ذریعے پر امن حکومت چلانے کی ناکام کوشش کی گئی. شریعی سزاووں پر عمل در امد کرانا طالبان کا افغانستان کو جنگ کے بعد پر امن بنانے کی ایک اچھی کوشش تھی لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ حضرت عمر کے دور میں ایک چور کی سزا اس لئے معاف کر دی گئی تھی کہ اس شخص نے قحط کے دور میں بھوکے بچوں کا پیٹھ بھرنے کیلئے چوری کی تھی. حضرت عمر نے بجائے سزا دینے کے قحط ذدہ علاقوں میں اناج کا انتظام کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا .
گو کہ طالبان کے چینی حکومت سے رابطے اور گیس پائپ لائن کیلئے علاقائی قوتوں سے رابطے خوش آئند تھے لین طالبان اپنی پالیسیوں کی وجہ سے شریعی حکومت سے ہاتھ دھو بیھٹے اورآج امریکی سامراج ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے. اگر طالبان لویہ جرگہ اور ریجنل پاورز کے اعتماد کو ساتھ لیکر چلتے تو شاید آج بھی افغانستان میں ان کی حکومت ہوتی اور ان کی حکمت عملی کی مثالیں دی جاتی. اسلامی نظام کا معتدل پہلو دکھانے کی بجائے ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ طالبان کے جانے کے بعد لوگ ان کو محمد بن قاسم کی طرح یاد کرنے کی بجائے شکر بجا لانے لگے.
ڈی سی بنوں بنوں کو خوبصورت بنانے کی جستجو میں کچھ ایسا فیصلہ کر گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے. بنوں میں سڑکوں پر غیر قانونی پریشر پمپ کو بند کیا جا رہا ہے. جو ظاہری سمجھ آ رہی ہے وہ یہ ہو سکتی ہے کہ سڑک کے بیچ میں پریشر پمپ کی وجہ سے نئی بنی ہوئی سڑک کو دوبارہ نقصان پہنچ سکتا ہے. لیکن دوسری طرف حکومت نے کچھ ٹیوب ویلوں کی بجلی کاٹ دی ہے جس کی وجہ سے کربلا کا سا ماحول بنا ہوا ہے. اور کچھ ٹیوب ویل تو ایسے بھی ہیں کہ جو ہر مہینے دس دس دن خراب رہتے ہیں. اس کے علاوہ اگر ڈی سی صاحب کہیں تو ان کو اس پانی سے ایک بوتل بھر کر بیج دیتا ہوں جو ٹیوب ویل سے گھروں کو فراہم ہوتا ہے. ایسا پانی ہوتا ہے جیسے نالی سے بالٹی بھری گئی ہو.
غیر قانونی پریشر پمپ ٹی ایم اے اہلکاروں کی موجودگی میں کیسے بنے یہ ایک الگ بحث ہے. بجائے اس کے کہ حکومت صاف پانی کا مسئلہ حل کرے پریشر پمپس کو بند کرنے کا فیصلہ طالبانی دور کی یاد دلاتا ہے. امید ہے ڈ سی صاحب کوئی درمیانی راستہ نکالیں گے.
طالبان آج افغانستان میں ایک نیشنلسٹ قوت کے طور پر ابھرے ہیں لیکن ان کا پچھلا دور افغانستان کے لوگوں کو نہیں بھول رہا . کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈی سی صاحب بنو‌ں کو خوبصورت بناتے بناتے عوام الناس کیلئے وبال جان نہ بن جائیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں