کنٹونمنٹ بورڈ بنوں گرلز ہائی سکول اینڈ کالج کی تعمیر مکمل، داخلے شروع

کنٹونمنٹ بورڈ بنوں کے زیر انتظام سپورٹس کمپلیکس کے نزدیک گرلز ہائی سکول اینڈ کالج کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے اس منفرد اور بڑے ادارے کے قیام پر پانچ کروڑروپے لاگت آئی ہے نو کنال رقبے پر محیط اس ادارے میں جماعت پنجم تک لڑکیاں اور لڑکے اکھٹے پڑھیں گے جس کے بعد صرف لڑکیاں یہاں تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں گی۔ اس منفرد تعلیمی ادارے کے حوالے سے کینٹ ایگزیکٹو آفیسر بنوں محمد عثمان عارف نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پری نرسری پلے گروپ سے لیکر پانچویں جماعت تک کے بچوں کا داخلہ جاری ہے جس میں بنوں کے عوام خاصی دلچپسی لے رہے ہیں۔دوسرے مرحلے میں ہائی اور تیسرے مرحلے میں انٹرمیڈیٹ کے داخلوں کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنوں کی روایات اور مقامی اقدار کے عین مطابق سکول میں پردے کا اس قدر اہتمام کیا گیا ہے کہ سکیورٹی گارڈ کے علاوہ دیگر تمام سٹاف خواتین پر مشتمل ہے۔ محمد عثمان عارف نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سٹاف کی بدولت سکول اینڈ کالج میں انگلش میڈیم طرز تعلیم ضلع بنوں کے دیگر تعلیمی اداروں سے انشاء اللہ بہت بہتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سکول کالج یونیفارم اور کتابیں کی خریداری کا انتظام تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کی جسمانی نشوونما کیلئے کھیل کود اور تفریحی سرگرمیاں بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا چار ماہ کے قلیل عرصے میں سکول اینڈ کالج کا قیام عمل میں لانے میں آل پاکستان کینٹونمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سید نجم الحسن شاہ اور کنٹونمنٹ بورڈ بنوں کے پریزیڈنٹ بریگیڈئر رضا علی ۔۔۔کا بھی اہم کردار ہے جن کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی میں یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ سکول اینڈ کالج کی عمارت سترہ کمروں، دس واش رومز، پانچ بڑے ہالوں پر مشتمل ہے۔ ساڑھے چار کنال اراضی پر عمارت اور باقی ساڑھے چار کنال رقبے پرلان کیلئے مختص کی گئی ہے سکول کے سبزہ زار سکول کی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جب سے کینٹونمنٹ بورڈ بنوں کے ایگزیکٹو آفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں کنٹونمنٹ پبلک گرلز سکول اینڈ کالج کے قیام کیلئے جملہ وسائل بروئے کار لائے اور محدود وسائل کے باوجود عمارت کی تکمیل کو یقینی بنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں