بنوں بورڈ کے زیر انتظام امتحانات ،پیپر پارکنگ کے التوا کا خدشہ

بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بنوں کے ملازمین نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی طرف سے خود مختاری خاتمے کی پالیسی کے خلاف دفاتر کو تالے لگا کر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اس پالیسی کو مسترد کر دیا۔بنوں بورڈ میں تالہ بندی کے بعد احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت بورڈزکے فنڈز پشاور کی سڑکوں پر خر چ کر نا چاہتی ہے جس کیلئے ہم سے بینک اکاؤنٹ مانگے گئے تھے۔ حکومت بورڈ کی خود مختاری ختم کر نا چاہتی ہے جس سے بورڈ ملازمین کی غیرجانبداری ختم ہو جائے گی۔ نئے مجوزہ بورڈ ایکٹ کے خلاف ملازمین گزشتہ تین ماہ سے احتجاج پر ہیں۔ گزشتہ 17دنوں سے دو گھنٹے اعلامتی ہڑتال چھ اپریل کو مکمل قلم چھوڑ ہڑتال کی گئی مگر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہو ئی بلکہ مجوزہ ایکٹ جو کہ آئین سے بھی متصادم ہے اور بورڈ کی خود مختاری کو ختم کر تا ہے کو کابینہ سے منظوری کے بعد آل ایمپلائز کوارڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا نے اپنے متفقہ فیصلے کے بعد تمام بورڈ زنے تالہ بندی اور قلم چھوڑ تال کا اعلان کیا ہے جس میں بورڈ کے زیر اہتمام امتحانات وپیپر ز مارکنگ کا بائیکاٹ بھی شامل ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے احتجاج جاری رہے گا ۔
دوسری طرف آل ٹیچرز گرینڈ الائنس بنوں اور پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک نے مطالبات کے حق میں احتجاج مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبات کی عدم منظوری پر 17اپریل سے بنی گالہ میں احتجاج اور تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ گورنمنٹ ہائی سکول چھو ترام میں احتجاجی اجلاس کے بعد پریس کلب تک احتجاجی ریلی جس میں ضلع بھر کے پی ایس ٹیز اورپرنسپلز تک تمام اساتذہ نے شرکت کی شرکاء نے ہاتھوں میں بینزر اُٹھائے تھے جس پر ان کے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے جو نعرے بازی کیساتھ پریس کلب بنوں پہنچ گئے جہاں احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر لی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ملک متحدہ محاذ اساتذہ کے صوبائی جنرل سیکرٹری ریاض خان ، سکول آفیسر ایسوسی ایشن کے صد ر عرفان علی شاہ ،جنرل سیکرٹری پرنسپل زین اللہ خان، تنظیم اساتذہ تحصیل بنوں کے صدر عبدالحفیظ قریشی ، وحدت اساتذہ کے ضلعی صدر مولانا محمد نیاز خان ، اپٹا کے رہنماء فرید اللہ شاہ بخاری ، پی ای ٹی یونین کے صدر ملک شوکت اللہ خان ، اے ٹی جی اے کے صدر ملک دوست محمد خان ، جنرل سیکرٹری عظمت اللہ خان، پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صدر عرفان اللہ ، سیکرٹری ملک نیاز علی خان، ذوالفقاراحمداورفرازپیر زادہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت وفاق سے انصاف کا مطالبہ تو کر رہی ہے مگراپنے صوبے میں انصاف کے نام پر ہم سے دھوکہ کیا گیا اور ہم نے پورے ساڑھے چار سال میں صوبائی حکومت کیساتھ ٹائم سکیل، سکول بیسڈ پالیسی اور دیگر مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے کل 38اجلاسیں کئے مگر ہر بار ہمیں یقین دہانی کے نام پر دھوکہ دیا گیا اُنہوں نے کہا کہ اسی طرح سابقہ ادوار میں ہمیں جو مراعات دی گئی ہیں وہ بھی موجودہ صوبائی حکومت نے ہم سے چھین لی ہیں مظاہرین نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن ، ڈی ایم او کی بجائے ایجوکیشن آفس کے حوا لئے کیا جائے ، پرائیویٹ سکولوں کی مانیٹرنگ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی بجائے ایجوکیشن آفس کے حوالے کیا جائے اسی طرح جن سکولوں نے رجسٹریشن کیلئے درخواستیں جمع کیں ہیں فی الفور رجسٹرڈ کیا جائے مظاہرین نے 17اپریل تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ 20اپریل کو ہونے والے انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے موقع پر ڈیوٹیاں نہیں دیں گے اور تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں