تجاویزات گرانے والے ڈی سی نے%800 ٹیکس لگا کراختیار سے تجاوز کیا ہے:متحدہ بنوں محاذ

بنوں کے عوام نے بنوں کو دوسرے قومی حلقہ سے محرومی، بنوں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لا گو کئے جانے والے آٹھ سو فیصد پراپرٹی ٹیکس ، تھیلیسیمیا سنٹر کی دور آفتادہ مقام پر منتقلی کے خلاف احتجاجی کیمپ تحریک شروع کی ہے ۔گزشتہ روز بنوں میراخیل میں ملک فرمان اللہ میراخیل کی رہائش گاہ جلسہ کا منعقد ہوا ۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عرفان پیرزادہ ایڈووکیٹ ، حافظ عبدالستار شاہ بخاری ، شب نیاز خان ، انتظار خان میر زا خیلوی و دیگر مقررین نے کہا کہ حالیہ مردم شماری کے نتیجے میں پاکستان کے تمام صوبوں میں قومی حلقوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ حق رکھنے کے باجود بنوں کو اس حق سے محروم رکھا گیا اور اس کے لئے فارمولے کو بہانہ بنایا گیا ہے۔ حالانکہ پنجاب میں اس حوالے سے کسی فارمولے کو فالو نہیں کیا گیا۔ اس صورت حال کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ بھی جمع کی گئی ہے کہ بعض صوبوں کے ساتھ اس حوالے سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔ بنوں اس وقت پورے پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے اس لئے ہم اس وقت تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس اقدام کو ماننے کے لئے تیار نہیں جب تک ہمیں بھی انصاف فراہم نہ کرے اور بنوں کو ایک اور قومی حلقہ نہ دے۔ بنوں کو تختہ مشق بنا دیا گیا ہے اور یہاں ایک ڈی سی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بنوں کی اراضی پر ٹیکس میں آٹھ سو فیصد اضافہ کیا ہے جو صوبے بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے جس کو ہم مسترد بھی کر چکے ہیں اور اس کو ماننے کے لئے کسی صورت بھی تیار نہیں اور ضلعی انتظامیہ نے قومی خزانے کو فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصانات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس لئے اب کوئی تحصیل نہیں جاتا اور انتقالات بند ہیں ۔ٹیکس کو ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ڈی سی کہتے ہیں کہ میرے پاس اختیار نہیں ۔ ہم پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ٹیکس صوبائی بجٹ پیش ہونے سے پہلے پہلے ختم کیا جائے بصورت دیگر بنوں کے عوام انتقالات کا سلسلہ بند کریں گے۔ جس سے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوگا اور اس کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ پر ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے پراپرٹی ٹیکسز میں اضافہ صرف بنوں میں کیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی ہے ۔یہ اضافہ دیگر اضلاع میں نہیں کیا گیا ہے جو کہ بنوں کے ساتھ نا روا سلوک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے دورانئے میں کمی کی گئی اور وہاں پر شیڈول کے مطابق لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے مگر بنوں میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں کمی لائی جا رہی ہے نہ ہی شیڈول کے مطابق کی جاتی ہے ۔الٹا لوڈ شیڈنگ بڑھانے کیلئے واپڈا پیسکو بنوں حکام کو لیٹرز ارسال کرتے ہیں کہ بنوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ اس سے بھی بڑھایا جائے۔ مقررین نے کہا کہ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال بنوں کے میڈیکل سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر دوست محمد خان نے تھیسلیمیا سنٹر کو زنانہ ہسپتال سے 20کلو میٹر کے فاصلے پر واقع خلیفہ گلنواز ہسپتال منتقل کیا تھا جس پر پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ نے واضح احکامات جاری کر د ئے تھے کہ فوری طور پر تھیلیسمیا سنٹر کو دوبارہ اپنی جگہ یا ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں منتقل کیا جائے مگر تاحال ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل در آمد نہیں کیا جا رہا جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ متحدہ بنوں محاذ کے مشران نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو 20اپریل سے بنوں کی سڑکیں جام کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں