’منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب۔۔۔‘ BBC Report

طاہر عمران
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سوشلستان میں یہ ہفتہ پاناما جے آئی ٹی کے سوشل میڈیائی پوسٹ مارٹم میں گزرا اور آئندہ چند ہفتے ایسا ہی چلنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب تحریکِ لبیک کے دھرنے پر عوام کی مشکلات کا بیان ہے۔ اور اس کے ساتھ دنیا بھر سے لگزری فلیٹس کی تصاویر اٹھا کر لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں ایک نئے مہمان کے لیے کمرہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اب یہ مہمان کون ہے، اس کے لیے آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ ٹویٹ کرنے والا کس سیاسی جماعت سے ہے۔ کیا ایسا کوئی کمرہ ہے بھی یا نہیں اس کی بھی کوئی خبر نہیں۔ اور ہم کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے بالی وڈ کے گانے ‘بچنا اے حسینوں لو میں آ گیا’ پر رقص کی ویڈیو کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ مگر ہم آج بات کریں گے کہ منظور پشتین آخر آج تک کہاں رہا ہے کہ بہت سارے مواقع پر احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی بولا۔

منظور پشتین آخر کہاں تھا؟

پاکستان میں اپنے حقوق یا دوسروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو غدار یا وطن دشمن جیسے القابات نئی بات نہیں اور ہم یہ عرصہ دراز سے عاصمہ جہانگیر اور ان جیسے کئی انسانی حقوق کے کارکنوں کے حوالے سے سنتے آئے ہیں۔

پشتون تحفظ مارچ کے منظور پشتین جب سے منظرِ عام پر آئے ہیں تو کچھ عرصہ تو یہ غدار قرار دینے والی مشینری نے خاموشی سے دیکھا مگر اس کے بعد ایک منظم طریقے سے سوشل میڈیا پر کمنٹس کا سلسلہ شروع ہوا۔

سوالات کہ منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب پشتونوں کے خلاف طالبان دہشت گردی کر رہے تھے؟ یا منظور پشتین اُس وقت کیوں نہیں بولا جب ڈرون حملے ہو رہے تھے؟ یا یہ کہ منظور پشتین کے پیچھے افغان ایجنسیاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔

بس پھر کیا تھا لوگوں نے بات پکڑ لی اور منظور پشتین سے انوکھے سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔
منظور پشتین کے حوالے سے ٹرینڈ میں یہ بھی شیئر کیا گیا۔
ثاقب خان ایسپ زئی نے لکھا ‘منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب 1901 میں ایف سی آر کا کالا قانون نافذ کیا گیا تھا؟’

رفیع نے سوال کیا کہ ‘منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب پشاور میں چپل کباب والے نے مجھے مزید چٹنی دینے سے انکار کر دیا تھا؟’

علی وارثی نے سوال کیا کہ ‘منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب پشاور زلمی کی قیادت ایک پشتون شاہد آفریدی سے لے کر ڈیرن سیمی کو تھما دی گئی؟’

فرید نے سوال کیا ‘منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب کراچی والے بریانی میں آلو ڈال رہے تھے؟؟؟’

مزاح ایک جانب مگر لوگوں نے پشاور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کی میڈیا پر کوریج نہ کیے جانے کا بھی شکوہ کیا جیسا کہ امجد آفریدی نے لکھا ‘منظور پشتین اُس وقت کہاں تھا جب کے ٹرینڈ کے جواب میں میں پاکستانی میڈیا سے سوال ہے کہ پاکستانی میڈیا اُس وقت کہاں تھا جبری طور پر لاپتہ کیے گئے پشتونوں کی مائیں بہنیں پشاور جلسے میں رو رہی تھیں بین کر رہی تھیں۔’

یاد رہے کہ روایتی میڈیا پر پشتون تحفظ موومنٹ کی کوریج نہ ہونے کے باوجود اس تحریک کی سوشل میڈیا کوریج بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے جسے ٹوئٹر اور فیس بُک پر لائیو دکھایا جا رہا تھا اور اس جلسے کے مختلف کلپس کو بڑی تعداد میں شیئر کیا جا رہا ہے۔

محمد مہدی نے لکھا ‘اس ٹرینڈ سے میں بڑا متاثر ہوا ہوں جیسے اس نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنا شروع کیا ہے اس کے باوجود کے قومی میڈیا اس تحریک کو نظر انداز کر رہا ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ جائز حقوق کی گارنٹی دی جانی چاہیے، شکایتوں کا ازالہ ہونا چاہیے، مسائل کو سنا جانا چاہیے اور حل کیا جانا چاہیے۔’

حارث گُل وزیر نے لکھا ‘پی ٹی ایم کو سازش کہنا بہت آسان ہے اپنے آرام دہ کمروں میں سکون سے بیٹھ کر اور ایسی صورت میں جب آپ نے فاٹا کبھی دیکھا بھی نہ ہو۔’

سب اس ٹرینڈ سے خوش بھی نہیں تھے جیسا کہ حمزہ گگیان نے لکھا ‘وہ سارے جو اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹویٹس کر رہے ہیں وہ پشتونوں کا مزاق اڑا رہے ہیں۔ آپ سب ایسے ٹرولنگ کیوں کر رہے ہیں جس سے دوسروں کو پشتونوں اور پشتونوں کے جائز مطابات کا مزاق اڑانے کا موقع مل رہا ہے۔’

اور منظور پشتین سے سوالات کرنے والوں اور تنقید کرنے والوں پر سلمیٰ جعفر نے لکھا ‘لوگ مزاحیہ انداز میں #منظور_پشتین_اس_وقت_کہاں_تھا_جب کا ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں مگر میرے لیے بات بہت پریشان کُن تھی کہ بہت سارے لوگ منظور پشتین کے معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ ایسے سوالات پوچھتے رہے ہیں۔ یعنی بیس کے پیٹے میں ایک نوجوان جو جنگ زدہ علاقے سے ہے یہ سوال کرنا آپ کے عقل اور ہمدردی کے جذبات سے عاری ہونے کی دلیل ہے۔’

……
بی بی سی کے ایک دوسرے آرٹیکل میں منظور پشتین کے تحریک کے جواب میں آرمی چیف جرنل باجوہ کے خطاب کو اہمیت دی گئی ہے.
پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن آئے کچھ عرصہ ہی گزرا ہے کہ لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے۔

جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں فوجی اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا۔

خطاب میں جنرل باجوہ نے کہا کہ جو قومیں اپنے ہیروز کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دن بہ دن ترقی اور امن کی طرف جا رہا ہے اور یہ نہ ہو کہ جب ہمارے ملک میں پورا امن آ جائے تو ہم ان شہدا کی قربانیوں کو بھول بیٹھیں۔

’کیونکہ ہماری قوم کی بھی تاریخ کو یاد رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہے، ابھی آپ دیکھیں کہ کچھ ہی عرصہ ہوا ہے کہ فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے۔ باہر اور اندر سے جو کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کے در پہ ہیں۔ ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک یہ فوج اور اس کے پیچھے قوم کھڑی ہے پاکستان کو کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے مزید کہا کہ پاکستان اب مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے اور اب پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں اور آج سے کچھ عرصے بعد جب ہم اور ترقی کی جانب جائیں گے تو میں آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ شہدا اور ان کے ورثا کو مت بھلائیں گے کیونکہ جو قومیں ان کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔

جنرل باجوہ نے فوجی اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’آج ہم یہاں جن افسران نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ان کی کارکردگی کے اعتراف میں یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اور اس سے بھی زیادہ انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنے سینے پر گولیاں کھائیں اور سب سے زیادہ جنھوں نے اپنی جان مادر وطن پر نچھاور کر دی۔‘

خیال رہے کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ان دنوں فاٹا میں گذشتہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔

پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس وقت تک ان کا پرامن احتجاج جاری رہے گا اور حکومت کو چاہیے کہ پشتونوں کو ان کا جائز آئینی اور انسانی حق دیا جائے ورنہ وہ اس کی حصول کے لیے آسلام آباد تک مارچ کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں