سپریم کورٹ ، پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ فاٹا تک بڑھانے کا بل منظور،انضمام کی پہلی کڑی:باز محمد

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر سابق سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ و عظمیٰ کا دائرہ فاٹا تک بڑھانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے قبائلی عوام کی کاوش کو کامیابی سے ہمکنار ہونے پر تمام قبائلی عوام اور پختون قوم کو مبارکباد پیش کی ہے ۔اُنہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا بل ایوان بالا سے منظور ہو گیا ہے جو بہت بڑی کامیابی اور انضمام کی جانب اہم قدم ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں تھی اور اس کیلئے 90ء کی دہائی سے جدوجہد کی جا رہی تھی۔ حکومت جلد از جلد باقی تمام مطالبات بھی تسلیم کر کے فاٹا کے صوبے میں انضمام کا اعلان کرے۔ ہم فاٹا انضمام کے مطالبے پر قبائلی عوام کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ان کی ہر جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں گے ۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی اور قبائلی عوام کا مشترکہ مطالبہ تھا کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے اسے عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے، ایف سی آر کا خاتمہ کیا جائے،این ایف سی ایوارڈ میں قبائل کو حصہ دیا جائے اور 2018کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی میں فاٹا کو نمائندگی دی جائے ۔عدالتی دائرہ اختیار میں آنے کے بعد انگریز کے کالے قانون کا ازخود خاتمہ ہو جائے گا اور بنیادی انسانی حقوق کی قبائلی عوام تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ انشاء اللہ فاٹا تک ہا ئی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ بڑھافاٹا کی صوبے میں انضمام کی پہلی کڑی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں