بنوں بیوٹیفکیشن منصوبہ: ڈاکٹروں کا دھندا عروج پر، محمد وسیم کی رپورٹ

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اضلاع میں جاری بیوٹی فکیشن منصوبہ میں شامل علاقوں اور شہر کے لوگ گرد وغبار اور گندگی سے مختلف امراض میں مبتلا ہو گئے۔ بغیر کسی پلان اور تیاری کے منصوبہ شروع کیا گیا جو شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا۔جس منصوبے کو عوام نے خوش آمدید کہا تھا اب سست روی غیر معیاری میٹریل اور میٹریل کے غلط استعمال سے شہریوں کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے ۔کاروبار زندگی مفلوج کرایہ دار کرایہ جمع کرنے کیلئے فکر مند ہو گئے ۔ بیوٹی فیکشن آف بنوں پراجیکٹ پر ایک ارب روپے کی کثیر لاگت سے گزشتہ 3 ماہ سے کام جاری ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ غیر قانونی تجاوزات گرانے کے لئے بھاری مشینری اور تمام محکموں کے افسران اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے لیکن گرایا گیا ملبہ پڑے کا پڑا رہتا ہے اور مہینوں پڑا رہتا ہے جو عوام بنوں کے لئے درد سر کی صورت اختیار کر چکاہے،
شہر کو داخل ہونے والی تمام سڑکیں خراب ہیں۔ سڑکوں پر تعمیراتی میٹریل اور ملبہ بروقت نہ اٹھانے سے شہری انتہائی پریشان ہیں۔ اہلیان بنوں کا کہنا ہے کہ جب بیوٹی فیکیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا تھا تو ہم خوش ہو رہے تھے کہ اب بنوں ترقی کریگا کاروبار دگنا ہو گا لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ہم دکانوں کے کرایہ ادائیگی کیلئے پریشان ہو گئے ہیں۔ جو منصوبہ چھ مہینے میں پورا کرنے کا کہا جارہا تھا وہ صرف ایک بازار کے چوراہے کو نہیں بنا سکے۔ حکمت اللہ ، ہارون نے بتایا کہ شہر کی سڑکیں ایسے بنادیئے گئے ہیں کہ اگر کوئی ایک بازار سے دوسرے بازار کو جاتا ہے تو اتنا وقت لگتا ہے جیسا کہ کوئی کسی دوسرے شہر کو جاتا ہو۔ سڑکوں پر روڑہ اور ریت ڈالا گیا ہے جس پر پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیا جاتا اور اُ س سے ایک گرد اُٹھتا ہے جس سے کھلے ہوا میں بغیر ماسک کے سانس لینا بھی دشوار بن گیا ہے اور لوگ پھیپڑوں ،کھانسی ،گلے کی خراش ،دمہ اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ جس سے ڈاکٹروں کا دھندا عروج پر پہنچ گیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں شہری ہسپتالوں میں داخل کرا ئے جا رہے ہیں ۔متعلقہ محکمہ جات کوئی کام نہیں کر رہے ہیں۔ صفائی کی جاتی ہے نہ ہی پانی کا چھڑکا ؤ اور بنوں کے عوام کو گرد و غبار کے رحم و کر م چھوڑا گیا ہے۔ ایک ماہر امراض نے بتایا کہ معمول سے ہٹ کر شہری مختلف امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ان امراض میں اضافے کی وجہ یہی گرد و غبار ہے۔ شہریوں کا چاہئے کہ وہ ماسک پہنے بغیر نہ نکلیں اگر انتظامیہ نے گرد و غبار کے خاتمے کیلئے اقدامات نہ اُ ٹھائے تو امراض مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ خصوصاً سانس کے ساتھ گرد اندر چلے جانے سے پھیپڑوں کا کینسر پھیلنے کا بھی خدشہ ہے ۔ساتھ میں سڑک کے کنارے کاروبار کرنے والے دکانداروں کا کاروبار بھی تباہ ہوچکا ہے۔ شہر بھر میں گرد و غبار کی و جہ سے ماحولیاتی نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ بغیر کسی منصوبے کے کام کی وجہ سے آج بنوں زمانہ قدیم کے کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے ۔عوام نے انتظامیہ سے اصلاح احوال کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بیوٹی فیکیشن آف بنوں کے منصوبے پر کام تیز سے تیز کیا جائے اور عوام کو اس اذیت سے نجات دلایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں