غیرملکیوں کو کنڑول کرنے کی بجائے آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا: جانشین فقیر ایپی

بنوں بکاخیل میں حاجی میر زا علی خان اے پی فقیر کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے اُن کے جانشین نواسے الحاج شیر محمد خان گرویکی نے کہا ہے کہ حکومت مزید پوشیدہ فیصلے نہ کرے۔ جو بھی پالیسی بنائیں پشتون قوم اور قبائل کو اعتماد لے کر بنائیں، مزاکرات کئے جائیں اور امن کا نقشہ بنایا جائے ۔آج تک جو بھی فیصلے بند کمروں میں ہو ئے ہیں پورے ملک کے ان کے نتائج بھگت رہے ہیں اور ملک کا امن و امان داؤ پر لگا ہو ا ہے۔ پشتونوں نے اس ملک کی آزادی کیلئے قربانیاں دی ہیں ۔ہم ریاست سے پشتونوں کیلئے قربانی کا صلہ عزت کیساتھ جینے اور اپنے حقوق پر اپنا اختیار مانگتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ وزیرستان میں آباد غیر ملکیوں کو محدود کیا جائے اور بازاروں میں ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی جائے مگر ہماری بات کسی نے نہیں مانی اور وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا جس کی وجہ سے وزیرستان کا ہر ایک بزرگ، بچے و خواتین نقل مکانی کر گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ملک میں اسلام اور امن کا قیام چاہتے ہیں ۔پشتون تحفظ موؤمنٹ کے مطالبات کو جائز قرار دیا گیا۔ اب ان کے مطالبات پر غور کر نا چاہیئے تا کہ مل بیٹھ کر مسئلہ حل ہو ۔ اس موقع پر حاجی سردار خان ، فدا ء وزیر ، ملک شوکت اللہ خان ایڈووکیٹ ،ملک اکبر علی خان ، ملک غلام خان ، فرید اعظم ایڈووکیٹ ، مفتی اسلام نور ، مولانا عبدالحئی ،فرمان اللہ خان میرا خیل دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔مقررین نے کہا کہ حاجی میر زا علی خان اے پی فقیر جس مقصد کیلئے اُٹھے اور تاج برطانیہ کے خلاف جہاد کرتے ہوئے بغیر بندوق کے اُنہیں شکست دی وہ اسلام کی سربلندی اور پشتونوں کیلئے تحریک چلائی اسی کی وجہ سے شکست کھا کر تاج برطانیہ کو یہاں سے جانا پڑا اور پورے ایشیاء میں ریاستیں آزاد ریاستیں قائم ہو ئیں۔ پاکستان بنا اور اسلام محفوظ ہو گیا ۔اب اے پی فقیر کا مشن آگے لے جانا ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ ملک میں جو نظام چل رہا ہے سیاستدان حکمرانی کر رہے ہیں یہ ہمارے آبا و اجداد کی قربانیاں کی مرہون منت ہے۔ اُنہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرارا دادیں پیش کیں کہ بنوں یونیورسٹی اور بنوں میڈیکل کالج کو فقیر اے پی کے نام سے منسوب ، وزیرستان کے تاجروں کو معاوضہ دیا جائے ۔قبائلیوں کیساتھ آ مرانہ رویہ ترک کیا جائے ۔فاٹا میں تعلیم کیلئے بجٹ دگنا کیا جائے ۔قبائل کی اراضیات اور زمعدنیات پر قبضہ کی بجائے نوجوانوں کو روز گار دیا جائے ۔شمالی وزیرستان میں فقیر اے پی کے نام سے یونیورسٹی، میوزیم قائم کر کے نصاب میں فقیر اے پی کی تحریک آزادی کو شامل کیا جائے۔ فاٹا میں تحصیل کی سطح پر سمال انڈسٹریل زون تعمیر کئے جائیں ۔قبائل میں ہسپتا ل اور ڈسپنسریوں کو جدید سہولیات سے آراستہ اور عملے کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنایا جائے اور قبائلیو ں کو آفسر شاہی کی لوٹ کھسوٹ سے محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی شکایت سیل اور ادارہ بنایا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں