سو دن دھرنا دینے والوں سے پشاور کاایک دن کا احتجاج برداشت نہ ہو سکا:دُرانی

وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں 100 دن سے زیادہ دھرنے دینے والوں سے پشاور میں ایک دن کا عوامی احتجاج برداشت نہیں ہو سکا جو ان کے قوت برداشت کا واضح ثبوت ہے کہ ان لوگوں میں برداشت ہی نہیں اور یہ لوگ سیاسی لوگ نہیں۔ فاٹا کے عوام کے مرضی کے خلاف ان پر فیصلہ ٹھونسا گیا ہے ان کے خلاف پر امن احتجاج پرلاٹھی چارج ملک کی بدترین غنڈہ گردی اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے منہ پر طمانچہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار فاٹا انضمام اور پشاور میں پر امن جلوس پر پولیس کی لاٹھی چارج کے حوالے سے میڈیا سے سعودی عرب سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ائین پاکستان میں ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رائے کا اظہار آزادی سے کرے۔ تحریک انصاف نے اسلام اباد میں سو دن سے زائد دھرنا دیا۔ حکومت نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا بلکہ ان کو تحفظ فراہم کیا لیکن جمہوریت سے نا واقف تحریک انصاف کے حکومت والے صوبے میں جب فاٹا کے لوگ اپنے جائز حق کے لئے پشاور میں پر امن احتجاج کر رہے تھے تو ان پر بد ترین ریاستی دہشت گردی کی گئی اور لوگوں کو اس مبارک مہینے میں خون میں نہلایا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے حوالے سے ہمارا جماعتی موقف واضح ہے کہ فاٹا کے عوام پر ان کے مرضی کے خلاف کوئی بھی فیصلہ نہ ٹھونسا جائے اوراس حوالے سے ان کو آزاد چھوڑا جائے کہ وہ اپنیمرضی سے فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ائی کی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے ان کی تمام پالیسیاں غیر موثر ہیں اور اخر وقت میں وہ غنڈہ گردی پر بھی اتر ائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا دور ایم ایم اے کا ہے مکمل پانچ سال کا حساب کتاب پرویز خٹک سے کرینگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں