پاکستان کے سب سے بڑے حلقے بنوں کے اضافی قومی نشست کی سنوائی کیلئے جلد تاریخ مقرر کی جائے: MBM


رپورٹ : فرمان نواز


متحدہ بنوں محاذ نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ بنوں کی قومی اسمبلی کی اضافی نشست کے بارے میں دائر کردہ رٹ کو مزید سنوائی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے.
بنوں کی قومی اسمبلی کی اضافی نشست کے بارے میں دائر کردہ رٹ کو مزید سنوائی کے لئے بنوں بینچ سے پشاور بینچ منتقل کر دیا گیا ہے. انگریزی روزنامہ دی نیشن کی ویب سایٹ پر 30 مئی کو ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق سینئیر سول جج عامر شہزاد نے کہا ہے کہ بنوں کا حلقہ ووٹرز کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا حلقہ ہے. متحدہ بنوں محاذ کے مطابق بنوں کی آبادی تقریباََ 12 لاکھ ہے. چونکہ انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ہے اس لئے بنوں کے عوام کیلئے اضافی حلقے کا کیس بہت اہمیت کا حامل ہے.
متحدہ بنوں محاذ نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے پر زور اپیل کی ہے کہ merit پر فیصلہ سنانے کے مذکورہ رٹ کو پشاور ہائی کورٹ منتقل کرنے کے بعد جلد سنوائی مقرر کرکے بنوں کے عوام پر احسان کیا جائے.

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 13 اضلاع کی حلقہ بندیوں کے حوالے سے فیصلے سناتے ہوئے 4 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم جب کہ 9 اضلاع کی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستیں مسترد کردیں تاہم ابھی 6 اضلاع کی حلقہ بندیوں کا فیصلہ آنا باقی ہے۔
جن اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دی گئی ہیں ان میں خاران، گھوٹکی، قصور اور شیخوپورہ شامل ہیں جب کہ خانیوال، چنیوٹ، کرم ایجنسی، راجن پور، مانسہرہ، صوابی، جیکب آباد، گوجرانولہ اور عمر کوٹ کی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں۔ عدالت نے ہری پور، سیالکوٹ، بہاولپور، رحیم یار خان، بنوں اور چکوال کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو بعد میں سنایا جائے گا جب کہ کل مزید 31 درخواستوں پر سماعت ہوگی۔
واضح رہے کہ حلقہ بندیوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں 108 درخواستیں زیرسماعت ہیں جب کہ گزشتہ روز بھی عدالت نے 4 اضلاع کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔

دی نیشن اخبار کی لنک
https://nation.com.pk/30-May-2018/ro-pledges-to-hold-fair-elections

اپنا تبصرہ بھیجیں