خاصہ دار فورس نے شمالی وزیرستان میں پولیس تعیناتی کی مخالفت کر دی

شمالی وزیرستان کی خاصہ دار فورس نے اپنی حیثیت کے خاتمے اور پولیس کی تعیناتی کا فیصلہ واپس لینے کیلئے حکومت پاکستان کو عید تک کی مہلت دے دی ہے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سڑکوں پر نکل آ نے کا اعلان کیا ہے۔
بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے صوبیدار ملک نواب خان ، صوبیدار شیر عجم خان ، صوبیدار گل امیر ، سردار عالم خان ، انعام اللہ چیف آف داؤڑ ، میر نواز اور اسلم خان نے کہا کہ خاصہ داری ہمیں نیکات میں ملی ہے۔ فاٹا انضمام ہو یا نہ ہو ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن خاصہ دارفورس کے خاتمے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ خاصہ دار فورس کی جگہ اب فاٹا میں پولیس کو تعینات کیا جارہا ہے جس کیلئے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ شمالی وزیرستان میں کل چھ ہزار خاصہ دار فورس ہیں جو ہر ایک خاندان کو نیکات میں ملی ہے ۔ خاصہ داری کے خاتمے کیلئے پاکستان سمیت مختلف ممالک کے وفود کیساتھ مذاکرات میں بھی ہمارے آبا و اجداد نے خاصہ دار فورس کے خاتمے کی مخالفت کی تھی ۔اُن کا کہنا تھا کہ انگریز دور سے قبائل کو مراعات دیئے گئے ہیں ۔قیام پاکستان کیساتھ قائد اعظم کا بھی قبائلیوں کیساتھ معاہدہ ہوا تھا جو ابھی تک موجود ہے۔ اُنہوں نے بھی قبائل کے مراعات تسلیم کئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ جمہوری ملک میں فاٹا کا انضمام ہو رہا ہے اور ہم سے کسی نے پوچھا تک نہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا ۔ہمیں پنشن ملے گا کہ نہیں ؟متبادل ملازمت ملے گی یا نہیں؟اُنہوں نے کہا کہ دو ماہ سے خاصہ داروں کی تنخواہیں بند کی گئی ہیں لہذا وہ بھی جاری کی جائیں ۔ہم فاٹا میں پولیس کی تعیناتی اور خاصہ دار فورس کا خاتمہ کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارے مطالبات منظور نہ کئے گئے ہم چھ ہزار خاصہ دار فورس اپنے خاندان اور قبائل سمیت احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں